Bharat Express DD Free Dish

Congress

کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان طارق انور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں اختلافات، ٹوٹ پھوٹ اور رہنماؤں کی علیحدگی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کانگریس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنی تاریخ میں دو بڑے انشقاق کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود کانگریس نے خود کو دوبارہ منظم کیا اور اقتدار میں واپسی بھی کی۔

جیسے جیسے ملک میں گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، ویسے ویسے قومی دارالحکومت نئی دہلی کی سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ سیاسی حلقوں کی نظریں آنے والی اہم حکمتِ عملی میٹنگز پر مرکوز ہیں۔ اسی سلسلے میں 8 جون کو کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں ہونے والی انڈیا بلاک کی …

شوسینا (یوبی ٹی) لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ انڈیا الائنس میں پھوٹ پڑی ہے۔ انہوں نے تمل ناڈو کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایم کے کو صبر سے کام لینا چاہئے تھا۔

 لوک سبھا میں ڈی ایم کے اب کانگریس کے ساتھ نہیں بیٹھے گی۔ تمل ناڈو میں کانگریس کے ٹی وی کے سے اتحاد کے بعد دونوں پارٹیوں کے پرانے تعلقات ختم ہوگئے ہیں۔ ڈی ایم کے نے لوک سبھا سکریٹریٹ سے الگ بیٹھنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے منظورکرلیا گیا ہے۔ وہیں پارٹی نے انڈیا الائنس کی میٹنگ میں بھی شامل نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

ہوائی اڈے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اوپندر کشواہا نے بھی مرکزی حکومت کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے کوشاں ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں ترقیاتی کام واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک مثبت علامت ہے اور اس کام کو مستقبل میں اور بھی زیادہ زور و شور سے آگے بڑھنا چاہیے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق بی کے ہری پرساد کو پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان ایک متوازن اور غیر جانبدار شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں کانگریس ہائی کمان کی پسندیدہ قیادت میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے باعث ان کی تقرری کو ریاستی تنظیم میں استحکام پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ڈی کے شیوکمارنے کرناٹک کے 25ویں وزیراعلیٰ کے طورپرحلف لیا۔ پارٹی صدرملیکا ارجن کھڑگے، راہل گاندھی، سابق وزیراعلیٰ سدارامیا سمیت کئی دیگراہم لیڈران موجود تھے۔ یہ حلف برداری تقریب سدارامیا کے استعفیٰ کے بعد منعقد کی گئی۔

ڈی کے شیوکمار کے حامیوں نے انہیں آئندہ وزیر اعلیٰ قرار دیتے ہوئے پوسٹرز لگانا اور سوشل میڈیا پر مبارکبادی پیغامات شیئر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حالانکہ، کانگریس پارٹی کی جانب سے اب تک قیادت کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی دففتری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذریعہ اعلان کئے قانون ساز کونسل کے الیکشن کے لئے 11 جون تک امیدوار اپنا نام واپس لے سکیں گے جبکہ 18 جون کو صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ووٹنگ کرائی جائے گی۔ 20 جون 2026 تک پورے الیکشن کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔

جولائی 2024 میں، آل انڈیا مہیلا کانگریس کی صدرالکا لانبا کی قیادت میں، جنترمنتر پراحتجاج کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں سزا پر 5 جون کوبحث ہوگی۔