Bharat Express DD Free Dish

CM Yogi Adityanath

ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو پریاگ راج پہنچ گئے ہیں۔ جہاں انہوں نے ریلوے ملازمین سے ملاقات کی۔ ریلوے ملازمین نے عقیدت مندوں کو مہا کمبھ تک پہنچانے کے لیے سخت محنت کی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی وضاحت کی کہ جو لوگ صرف مذہبی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ وہاں جا سکتے ہیں، لیکن ایک اچھا ادیب، اچھا سائنسداں، ریاضی داں اچھا استاد، اچھا انجینئر بننے کے لئے جدید تعلیم بھی حاصل کرنا ہوگی۔

راجیشور سنگھ نے وزیر خزانہ سریش کھنہ کے پیش کردہ بجٹ اور شلبھ منی ترپاٹھی کی طرف سے پیش کردہ تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ اتر پردیش کی مسلسل ترقی کا اعلان ہے۔ انہوں نے اسے ایک تاریخی اور جرات مندانہ قدم قرار دیا۔

سنبھل ضلع میں شری کلکی دھام کی تعمیر کے لیے 19 فروری 2025 سے زمین کی کھدائی کے کام کے افتتاحی پروگرام کے لئے آچاریہ پرمود کرشنم نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو دعوت نامہ بھیجا تھا۔

اس بار 8 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے اس بجٹ میں کئی بڑے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ اس میں ریاستی حکومت نے 4 نئے ایکسپریس ویز کے حوالے سے بڑا اعلان کیا ہے، جس پر 1500 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوں گے۔

منگل کی صبح ایوان کی کارروائی کے خلاف احتجاج کے بعد ایوان کا اجلاس ساڑھے 12 بجے شروع ہوا۔ اس دوران اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ماتا پرساد پانڈے نے تجویز پیش کی کہ انگریزی کے بجائے اردو کو فلور لینگوئج کے طور پر اپنایا جائے، کیونکہ انگریزی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اردو ہماری دوسری زبان ہے۔ اس پر سی ایم یوگی نے ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں کا مدعا اٹھاتے ہوئے اپوزیشن کو نشانہ بنایا۔

مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل (18 فروری 2025) کو اتر پردیش کے پریاگ راج میں منعقد ہونے والے مہا کمبھ میلے کی مبینہ بدانتظامی کے لیے مرکزی حکومت اور یوپی کی یوگی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

سی ایم یوگی نے کہا کہ سماج وادی پارٹی بھوجپوری، بندیل کھنڈی اور اودھی کی مخالفت کیوں کر رہی ہے۔ یہ ایس پی کی منافقت ہے۔ ایس پی کے لوگ دوہرے کردار کے ہیں۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ سماج وادی پارٹی کے لوگ اردو کی وکالت کر رہے ہیں۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے آچاریہ ستیندر داس کے انتقال پر ردعمل ظاہر کیاہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا، آچاریہ ستیندر کمار داس جی مہاراج کا انتقال انتہائی افسوسناک اور سماجی اور روحانی دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔

گزشتہ دو تین دنوں سے پریاگ راج میں عقیدت مندوں کی بڑی بھیڑ جمع ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ سے پریاگ راج جانے والی ہر شاہراہ پر گاڑیوں کی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔