Bharat Express DD Free Dish

CM Nitish Kumar

نتیش کمار 28 جنوری کو گرینڈ الائنس چھوڑ کر این ڈی اے میں شامل ہو گئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اسی دن بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے حلف بھی لیا۔ سی ایم نتیش کے علاوہ 8 اور وزراء نے بھی حلف لیا تھا۔

بہار میں آرجے ڈی اب اپوزیشن میں آگئی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی بہار میں سیاسی کھیل ہونا باقی ہے۔ یہ پورا کھیل بہار میں 12 فروری کو دیکھا جائے گا۔

بہار کی سیاست ابھی اپنے عروج پر ہے۔ اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد سے متعلق اسپیکر اودھ بہاری چودھری نے بدھ کے روز اپنا رخ واضح کردیا ہے۔

یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ این ڈی اے میں سیٹوں کی تقسیم پر بحث جاری ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق آر ایس ایس  نے بہار میں جے ڈی یو کو کم سیٹیں دینے کے لیے بھی مداخلت کی ہے۔ سنگھ نے صاف کہہ دیا ہے کہ جے ڈی یو کو بہار میں 11 سے 12 سیٹیں دی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب چراغ پاسوان بھی جھکنے کو تیار نہیں۔

ہندوستانی عوام مورچہ کے سربراہ جیتن رام مانجھی مان گئے ہیں۔ یہ سوال اس وجہ سے اٹھ رہا ہے کیونکہ مانجھی کے بیٹے سنتوش سمن نے وزارت کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ وہ ایک ہی وزارت ملنے سے ناراض بتائے جا رہے تھے۔

جیتن رام مانجھی نے اس کو ایشو بنا کر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ وزیر سنتوش سمن کو ایچ اے ایم کوٹہ سے ایس سی-ایس ٹی بہبود کا محکمہ ملنے پر مانجھی نے گیا میں ایک کھلے فورم سے کہا، ''مجھے بھی وہی محکمہ ملا جب میں وزیر تھا اور میرے بیٹے سنتوش کو بھی ایس سی-ایس ٹی بہبود کا ہی محکمہ ملا۔

بہار کے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ پہلے جہاں تھے اب واپس وہیں آگئے ہیں اور اب صرف بہار کی ترقی کے لئے کام کریں گے۔ انہوں نے آرجے ڈی اور کانگریس پر بڑا حملہ کیا ہے۔

پارلیمانی امور کے محکمہ کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ آئندہ اجلاس میں کل 12 کام کے دن ہوں گے اورریاستی بجٹ 12 فروری کو پیش کیا جائے گا۔

اویسی نے کہا کہ 2015 سے میں کئی دانشوروں اور سیاسی لیڈروں سے میں گالیاں کھا رہا ہوں کیونکہ میں نے بہار میں مہا گٹھ بندھن کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ تب بھی اور 2022 میں بھی میں نے کہا تھا کہ نتیش کمار بی جے پی میں واپس جائیں گے۔ یہ ان لوگوں کی سیاسی سمجھ کا واضح ثبوت ہے کہ یہ دانشور ہر بار غلط ثابت ہوئے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ آج کسی بھی سیکٹر میں انصاف نہیں ہو رہا ہے ۔ اور انصاف کیلئے آبادی کے حساب سے شراکت داری بہت ضروری ہے اور یہ صحیح آبادی تب پتا چلے گی جب ذات پر مبنی مردم شماری ہوگی ۔ یہ ذات پر مبنی مردم شماری سماج کا ایکسرے ہے اور اس ایکسرے کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ کونسی برادری اور کونسی ذات کے لوگوں کی حالت کیا ہے