Bharat Express DD Free Dish

Bombay High Court

یہ معاملہ براہ راست ماحولیات اور عوامی صحت سے جڑا ہوا ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ مذہب اور ذات کوئی بھی ہو، ہر انسان ایک ہی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ اس لیے آلودگی کے خلاف بیداری پیدا کرنے کی کوششوں کو غیر ضروری تنازعات میں الجھانے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔

مرکزی حکومت کے نوٹس پر عمل درآمد اگلی سماعت تک معطل، اداکار کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کی بنچ نے ہدایت دی ہے کہ معاملے کی اگلی سماعت تک عمران خان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے۔

ملک کی اہم اور مصروف ترین عدالتی اداروں میں شامل بامبے ہائی کورٹ میں ججوں کی کمی دور کرنے کے لیے کالجیم نے 2 ناموں کو منظوری دی ہے۔ان میں ممبئی میں واقع کسٹمز، ایکسائز اینڈ سروس ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل (CESTAT) کے جوڈیشل ممبر اجے شرما اور بامبے ہائی کورٹ کے معروف وکیل ویبھو اننت سگدھرے شامل ہیں۔

FRRO کی جانب سے عمران خان کو بھارت چھوڑنے کا نوٹس ملنے کے بعد معاملہ بامبے ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ 27 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں طے ہوگا کہ اداکار کو راحت ملے گی یا انہیں ملک چھوڑنا پڑے گا۔ جانئے پورا تنازع اور عدالت میں کیا بحث ہوئی۔

شکایت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ سرگرمی کو ’پُرامن احتجاج‘ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ سیاسی مظاہرے کے نام پر قانون کی خلاف ورزی کی کوشش ہے۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ جو لوگ آئین کے تحفظ کا دعویٰ کر رہے ہیں، وہی آئین کے تحت قائم ہائی کورٹ کے اختیارات کو کھلا چیلنج دے رہے ہیں۔

راہل راج سنگھ کا شروع سے دعویٰ رہا ہے کہ وہ اور پرتیوشا دسمبر 2016 میں شادی کرنے والے تھے۔ اب تقریباً 10 سال تک چلنے والی قانونی لڑائی کے بعد راہل کو اس معاملے میں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔

کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں بہار کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں آج آر جے ڈی کی جانب سے احتجاج کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن سی ای سی کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں شکایت درج کرائی ہے۔

راہل گاندھی نے ہائی کورٹ میں دلیل دی تھی کہ بی جے پی کارکن کی جانب سے دائر کی گئی شکایت قانونی طور پر قابلِ سماعت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں لیا تھا اور نہ ہی کسی قابلِ شناخت یا متعین طبقے کو نشانہ بنایا تھا۔ ایسے میں کوئی فرد یا گروہ واضح طور پر متاثرہ فریق نہیں بنتا۔

 تہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹر ترون تیج پال نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔ حالانکہ انہیں راحت نہیں ملی۔ انہوں نے سرینڈر سے چھوٹ مانگی تھی۔ ہائی کورٹ نے انہیں سرینڈر کرنے کے لیے چار ہفتے کا وقت دیا تھا۔ اس کے بعد تیج پال نے سپریم کورٹ سے سرینڈر کرنے سے رعایت دینے کی درخواست کی تھی۔

بامبے ہائی کورٹ نے نیوزمیگزین تہلکہ کے سابق ایڈیٹرترون تیج پال کو2013 میں ایک جونیئر ساتھی کے ساتھ آبروریزی کا مجرم قراردیا۔ عدالت نے انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ گوا پولیس کی جانچ افسر سنیتا ساونت نے کہا کہ انہیں 10 سال کی قید کی سزا اور 5 لاکھ روپئے کے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہیں سرینڈرکرنے کے لئے دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔