Bharat Express DD Free Dish

Bombay High Court

اجیت پوارکی سربراہی والی این سی پی کے قومی جنرل سکرٹیری، اقلیتی ونگ کے سربراہ ایڈوکیٹ سید جلال الدین نے بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ تاریخی ہے اوراس فیصلہ نے ایک بارپھرعدلیہ پر لوگوں کے اعتماد کومضبوط کیا ہے۔

ہائی کورٹ نے اے ٹی ایس کی جانچ پرکہا کہ معاملہ سلجھانے کا جھوٹا دکھاوا کرنا اور اس کے ذریعہ ملزمین کوانصاف کے کٹہرے میں لایا جانا، سماج کوجھوٹی یقین دہانی کراتا ہے، یہ بہت خطرناک ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مہاراشٹراے ٹی ایس کے لئے شرمندگی کی بات ہے کیونکہ اسی نے اس پورے معاملے کی جانچ کی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمین کو فوراً جیل سے رہا کیا جائے اگر وہ کسی اور مقدمہ میں مطلوب نہیں ہیں تو یعنی کہ عدالت نے سال 2006 سے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ملزمین کی جیل سے رہائی کا راستہ صاف کردیا ہے۔

سال 2006 کے ممبئی لوکل ٹرین دھماکے میں ہائی کورٹ سے بری کئے گئے ملزمین کے بارے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ 12 مسلم مرد 18 سال سے جیل میں ہیں، وہ بھی اس جرم کے لئے، جوانھوں نے کیا ہی نہیں۔ ان کی سنہری زندگی جیل میں ضائع ہوگئی۔

بامبے ہائی کورٹ نے 11 جولائی 2006 کو ہوئے ممبئی ٹرین دھماکہ معاملے میں 12 ملزمین کو بری کردیا۔ اس دوران ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کیا۔ بم دھماکے میں 180 افراد کی جان گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے ان گواہوں کی گواہی کو بھی نا منظور کردیا، جن میں ٹیکسی ڈرائیور شامل تھے۔

ہندوستان کے 52ویں CJI سی جے آئی بی آر گوئی نے کہا، ’’میں آرکیٹیکٹ بننا چاہتا تھا لیکن میرے والد کے میرے لیے کچھ اور خواب تھے۔ وہ ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ میں وکیل بنوں، ایک ایسا خواب جسے وہ خود پورا نہیں کر سکے۔‘‘ سی جے آئی نے بتایا کہ اپنے والد کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے آرکیٹیکٹ بننے کا خواب چھوڑ دیا۔

عدالت نے اپنے عبوری حکم میں کہا ہے کہ ’’جب تک یہ درخواست زیرِ غور ہے، فرٹیلٹی سینٹر کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ نطفے کے نمونے کو محفوظ رکھے۔‘‘

کوچی ٹسکرس کیرل اوربی سی سی آئی کے درمیان جاری قانونی جنگ میں بڑی خبرسامنے آئی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے اس معاملے میں ایک فیصلہ دیا ہے، جو دنیا کے امیرترین کرکٹ بورڈ کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ 

سپریم کورٹ نے تھانے درگاہ کو منہدم کرنے پر7 دنوں کی روک لگا دی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے بامبے ہائی کورٹ کے 10 مارچ کے حکم کے خلاف ٹرسٹ کی عرضی پر سماعت کررہی تھی، جس میں درگاہ کے غیرقانونی حصے کو گرانے کا حکم دیا گیا تھا۔

بمبئی ہائی کورٹ نے منگل کو انجینئرنگ کی ایک 19 سالہ طالبہ کو ضمانت دیتے ہوئے مہاراشٹر حکومت پر سخت نکتہ چینی کی۔