Bharat Express DD Free Dish

Bombay High Court

سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکرسمیت تمام ملزمین اورقومی تفتتیشی ایجنسی کونوٹس جاری کی گئی۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ انصاف کے لئے جمعیۃعلماء ہند ملک کے نامورکریمنل وکلاء کی خدمات حاصل کریے گی۔

 مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر متاثرین کی طرف سے داخل اپیل میں این آئی اے پر ملزمین سے سمجھوتہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ساتھ ہی حصول انصاف کے لئےجدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

حزب اختلاف نے سخت اعتراض کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستانی عدالتی نظام میں انصاف اور غیر جانبداری کو برقرار رکھنے کے لیے ان کی تقرری کو روکا جائے۔

این آئی اے کورٹ نے مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے میں بی جے پی کی سابق رکن پارلیمنٹ پرگیہ سنگھ ٹھاکرسمیت تمام 7 ملزمین کوبری کر دیا ہے۔ اب جمعیۃ علماء ہند نے اس فیصلے کوہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جمعیۃ علماء ہند اگست کے پہلے ہفتے میں بامبے ہائی کورٹ میں اپیل دائرکرے گی۔

اجیت پوارکی سربراہی والی این سی پی کے قومی جنرل سکرٹیری، اقلیتی ونگ کے سربراہ ایڈوکیٹ سید جلال الدین نے بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا یہ فیصلہ تاریخی ہے اوراس فیصلہ نے ایک بارپھرعدلیہ پر لوگوں کے اعتماد کومضبوط کیا ہے۔

ہائی کورٹ نے اے ٹی ایس کی جانچ پرکہا کہ معاملہ سلجھانے کا جھوٹا دکھاوا کرنا اور اس کے ذریعہ ملزمین کوانصاف کے کٹہرے میں لایا جانا، سماج کوجھوٹی یقین دہانی کراتا ہے، یہ بہت خطرناک ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد مہاراشٹراے ٹی ایس کے لئے شرمندگی کی بات ہے کیونکہ اسی نے اس پورے معاملے کی جانچ کی تھی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمین کو فوراً جیل سے رہا کیا جائے اگر وہ کسی اور مقدمہ میں مطلوب نہیں ہیں تو یعنی کہ عدالت نے سال 2006 سے جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے والے ملزمین کی جیل سے رہائی کا راستہ صاف کردیا ہے۔

سال 2006 کے ممبئی لوکل ٹرین دھماکے میں ہائی کورٹ سے بری کئے گئے ملزمین کے بارے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ 12 مسلم مرد 18 سال سے جیل میں ہیں، وہ بھی اس جرم کے لئے، جوانھوں نے کیا ہی نہیں۔ ان کی سنہری زندگی جیل میں ضائع ہوگئی۔

بامبے ہائی کورٹ نے 11 جولائی 2006 کو ہوئے ممبئی ٹرین دھماکہ معاملے میں 12 ملزمین کو بری کردیا۔ اس دوران ہائی کورٹ نے اہم تبصرہ کیا۔ بم دھماکے میں 180 افراد کی جان گئی تھی۔ ہائی کورٹ نے ان گواہوں کی گواہی کو بھی نا منظور کردیا، جن میں ٹیکسی ڈرائیور شامل تھے۔

ہندوستان کے 52ویں CJI سی جے آئی بی آر گوئی نے کہا، ’’میں آرکیٹیکٹ بننا چاہتا تھا لیکن میرے والد کے میرے لیے کچھ اور خواب تھے۔ وہ ہمیشہ سے چاہتے تھے کہ میں وکیل بنوں، ایک ایسا خواب جسے وہ خود پورا نہیں کر سکے۔‘‘ سی جے آئی نے بتایا کہ اپنے والد کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے آرکیٹیکٹ بننے کا خواب چھوڑ دیا۔