Bharat Express DD Free Dish

Bihar

وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے پیر کو سوشل میڈیا کے ذریعے اس فیصلے کی اطلاع دی۔ پی ایم او کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے حادثے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو پی ایم این آر ایف سے مالی امداد فراہم کرنے کی منظوری دی ہے۔

انتظامیہ کے مطابق، جس وقت یہ حادثہ پیش آیا، اس وقت بجلی کی سپلائی بند تھی۔ بجلی کے تار کو بھی کور کیا گیا تھا، اس لیے موقع پر کرنٹ پھیلنے کی بات درست نہیں تھی۔ تاہم، بجلی کے کھمبے کے گرنے اور اس کے بعد پھیلنے والی افواہ نے حالات کو انتہائی سنگین بنا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں موجود عقیدت مندوں کے درمیان بھگدڑ مچ گئی۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران فوری طور پر موقع پر پہنچے۔

بھرت تیواری کے اہل خانہ نے پولیس پر فرضی انکاؤنٹر کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھرت نے پولیس کے سامنے اپنا ہتھیار پھینک کر خودسپردگی اختیار کر لی تھی، اس کے باوجود اسے گولی مار دی گئی۔بھرت تیواری کی والدہ آشا دیوی کے مطابق، 17 جون کی صبح ڈی ایس پی اور متعلقہ تھانے کے انچارج کی قیادت میں پولیس کی ایک ٹیم ان کے گھر پہنچی تھی

کاکروچ جنتا پارٹی کے مطابق حکومت نے اس بات کا بھی وعدہ کیا کہ دیگر ریاستیں بھی مظاہرین کے تحفظ سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گی۔

پولیس نے لاپتہ کم عمر لڑکیوں کی تلاش کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ ضلع اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ شیلٹر ہوم اور اطراف کے علاقوں میں نصب نگرانی کے کیمروں کی ریکارڈنگ کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ کوئی اہم سراغ مل سکے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی بہیا پولیی اور تحقیقات شروع کر دیں۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ خستہ حال باؤنڈری دیوار کن وجوہات کی بنا پر گری۔ پولیس نے دونوں بچوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی ہیں، جبکہ ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو بھی واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہس موقع پر پہنچ گئے۔

رہوا گاؤں کے قریب بہار اربن انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن (BUDCO) کی جانب سے نالے کی تعمیر کا کام چل رہا تھا۔ اسی دوران جے سی بی مشین سے کھدائی کرتے وقت زمین کے اندر سے گزرنے والی قدرتی گیس (پی این جی) کی پائپ لائن کو نقصان پہنچ گیا، جس کے باعث گیس کا اخراج شروع ہوگیا۔

شام تک گاؤں والوں کی مدد سے مسلسل تلاش جاری رہی۔ اسی دوران گاؤں کے قریب کھدائی کے دوران بنائے جا رہے ایک تالاب کے کنارے بچے کی لاش ملی۔ لاش دیکھ کر اہل خانہ اور مقامی لوگوں میں کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ بچے کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش تالاب کے کنارے پھینک دی گئی تھی۔پ

امت شاہ نے کہا کہ بی ایس ایف کو پاکستان اور بنگلہ دیش کی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان وسیع سرحدوں پر ہر علاقے کے اپنے الگ چیلنجز ہیں۔

افسوسناک طور پر اس حادثے میں اب تک 10 مریضوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ متعدد افراد کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور حکام اس کی تصدیق میں مصروف ہیں۔حادثے کے بعد مریضوں کے لواحقین نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔