Bharat Express DD Free Dish

Bihar

پولیس کے مطابق مغربی بنگال کے دالکولا کا رہنے والا سندیپ داس اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ دربھنگہ کے چندن پٹی علاقے میں ایک مرغی فارم پر کام کرتا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کا اپنی بیوی پھول کماری داس کے ساتھ اکثر جھگڑا ہوتا رہتا تھا۔

اڈانی گروپ اور اکھنڈ جیوتی آئی ہاسپٹل کی مشترکہ کوشش سے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں جدید اور کم خرچ آنکھوں کے علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کا مقصد شمالی اور وسطی بھارت کے دور دراز علاقوں تک عالمی معیار کی آئی کیئر خدمات پہنچانا ہے۔

اطلاعات کے مطابق خاتون کو معمولی چوٹیں آئی ہیں، تاہم خوش قسمتی سے تمام افراد محفوظ رہے۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردِعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کئی یوزر نے ماں کی جرأت اور بچوں کے لیے اس کی قربانی کے جذبے کی تعریف کی،

سال 2005 میں بہار کے ایک دیہی علاقے میں 30 بستروں والے اسپتال کے طور پر قائم ہونے والا اکھنڈ جیوتی آئی ہاسپٹل آج ملک کے نمایاں آنکھوں کے اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں اب تک 14 لاکھ سے زیادہ افراد کی بینائی بحال کی جا چکی ہے، جبکہ لاکھوں لوگوں کی آنکھوں کا چیک اپ کیا جا چکا ہے۔

گرافکس، فونٹ اور نیوز چینل جیسے انداز کی وجہ سے یہ تصویر دیکھنے میں بالکل حقیقی محسوس ہو رہی تھی، جس کے سبب ہزاروں لوگوں نے بغیر تصدیق کے اسے شیئر کرنا شروع کر دیا۔ کئی یوزر نے اس خبر کو سچ مانتے ہوئے مختلف تبصرے بھی کیے اور دعویٰ کیا کہ بنگال جلد ہی بہار، گجرات، ناگالینڈ اور میزورم کی طرح شراب بندی والی ریاست بن جائے گا۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ان اموات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں ریاستی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مہلوکین کے لواحقین کو چار چار لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔

مظفرپور کے دیہی پولیس سپرنٹنڈنٹ راجیش سنگھ پربھاکر کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ کافی کوشش کے بعد لاشوں کو گاڑی سے نکالا گیا اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال بھیج دیا گیا۔

فی الحال بہار حکومت صرف تین اہم چہروں کے سہارے چل رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری خود 29 محکمے سنبھال رہے ہیں، جب کہ نائب وزرائے اعلیٰ وجے چودھری اور بجیندر یادو بھی اہم ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

نتیش کمار کے حلف لینے کے بعد راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ آر جے ڈی لیڈر شکتی سنگھ یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کی پیش گوئی آج سچ ثابت ہو گئی ہے

مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے بھیڑ کنٹرول کے لیے کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا تھا۔ ہر منگل یہاں یاتریوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ڈی پی او اور ضلع کے دیگر سینئر اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائی شروع کی گئی۔