Bharat Express DD Free Dish

Bihar Politics

’ووٹ چوری‘ اور ووٹر فہرست میں بے ضابطگیوں پر بی جے پی اور ای سی کو تنبیہ، ووٹ کا حق عوام کی آواز ہے، اسے دبانے نہیں دیں گے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ وہ جلد ہی 2024 کے لوک سبھا انتخابات اور ہریانہ اسمبلی انتخابات میں ووٹ چوری کے ثبوت پیش کریں گے، جیسا کہ وہ کرناٹک میں کر چکے ہیں۔

وکاسیل انسان پارٹی (VIP) کے صدر مکیش ساہنی نے بھی اس مدعے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے حقوق اور ووٹ کی چوری جیسے سنگین مسائل کے لیے لڑ رہے ہیں، ووٹ چوری کرکے ملک اور ریاست میں حکومتیں بن رہی ہیں، جس کے خلاف ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

کانگریس جنرل سکریٹری 26 اور 27 اگست کو سوپول اور سیتامڑھی کا دورہ کریں گی۔ وہ جانکی مندر میں پوجا کریں گی اور خواتین ووٹروں کو اپوزیشن کا پیغام پہنچانے کی کوشش بھی کریں گی

لالو پرساد نے عوام سے اپیل کی کہ سب متحد ہو کر راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کے ساتھ مل کر بی جے پی کو اقتدار سے ہٹائیں اور جمہوریت کو مضبوط ہونے دیں۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے روایتی عوامی انداز میں کہا ’’لاگل لاگل جھولنیاں میں دھکا، بلم کلکتہ چلا‘‘ جس پر مجمع میں قہقہے گونج اٹھے۔

اپوزیشن جماعتیں مسلسل ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹر لسٹ میں جانبدارانہ تبدیلیاں کر کے بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

آج کی سماعت میں عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد یہ طے کر سکتی ہے کہ ووٹروں کے نام حذف کرنے کا موجودہ طریقہ آئینی اور قانونی معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ اس فیصلے کے اثرات بہار کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل پر پڑسکتے ہیں۔

کانگریس نے کہا کہ یہ فراڈ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح یہ لوگ ملک بھر میں بی جے پی والوں کو دوہری تہری شہریت دے رہے ہیں۔ کہیں ایک پتہ پر 80-80 ووٹ ڈالے جا رہے ہیں تو کہیں ایک شخص چار بار ووٹ دے رہا ہے۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی، چور چور موسیرے بھائی۔

تیجسوی نے کہا کہ ڈومیسائل پالیسی کا مطالبہ پچھلے 20 سال سے اٹھ رہا ہے، لیکن حکومت نے اب جا کر اس پر قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے یہ پالیسی ضروری ہے، جیسا کہ کئی ریاستوں میں اسے پہلے ہی نافذ کیا جاچکا ہے۔

ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ کی اصلاح کا یہ عمل انتخابی نظام کو شفاف، درست اور فرضی ووٹنگ سے پاک بنانے کی کوشش ہے۔ کمیشن نے بتایا کہ دو جگہ اندراج اور غیر مستحق ووٹروں کے اخراج کے ذریعے ووٹر لسٹ کو معیاری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یہ تنازعہ اب محض ایک فہرست یا ایک نام کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ انتخابی شفافیت اور جمہوریت پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا واقعی بہار میں لاکھوں ووٹ حذف کیے گئے؟ یا یہ صرف سیاسی شور ہے؟ الیکشن کمیشن اور تیجسوی یادو کے بیانات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔