بہار بی جے پی کے صدر دلیپ جیسوال نے عظیم اتحاد پر نشستوں کی تقسیم کو لے کر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے پوری طرح متحد ہے، جبکہ عظیم اتحاد میں اندرونی جھگڑے اور اختلافات نے ہلچل مچا رکھی ہے۔ جیسوال نے دعویٰ کیا کہ عوام این ڈی اے کے ترقیاتی کاموں اور وزیر اعظم نریندر مودی کی گارنٹی پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک بار پھر انہیں اقتدار میں لانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
ٹکٹوں کے لیے پیسے کا کھیل
این ڈی اے کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے بہار بی جے پی کے صدر دلیپ جیسوال نے کہا ہے کہ ریاست کی عوام نے ایک بار پھر این ڈی اے کو حکومت میں لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ بہار کی عوام عظیم اتحاد کے رویے اور طور طریقوں کو بھی بغور دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عظیم اتحاد میں ٹکٹوں کے لیے پیسے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، جو عوام کی نظروں سے چھپا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت ترقی، غریبوں کی فلاح، خواتین کو بااختیار بنانے، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور کسانوں کی بہبود پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق، این ڈی اے کی کسان پالیسی کی کوئی مثال نہیں ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی گارنٹی
انہوں نے کہا کہ بہار کی عوام کو وزیر اعظم نریندر مودی کی گارنٹی پر مکمل بھروسہ ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر نے بتایا کہ وزیر اعظم مودی 24 اکتوبر سے بہار اسمبلی انتخابات کے لیے مہم کا آغاز کریں گے۔ اس دن وہ کَرپوری گاؤں سے اپنی مہم کا آغاز کریں گے، جہاں وہ بھارت رتن جننایک کَرپوری ٹھاکر کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد سمستی پور میں پہلی انتخابی ریلی سے خطاب کریں گے۔
مودی کی ریلیوں سے بنے گا انتخابی ماحول؟
دلیپ جیسوال نے مزید بتایا کہ اسی دن وزیر اعظم مودی بیگوسرائے میں بھی ایک انتخابی ریلی سے خطاب کریں گے۔ اس کے بعد وہ 30 اکتوبر کو ایک بار پھر بہار آئیں گے اور مظفرپور و چھپرا میں انتخابی جلسے کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے مسلسل بہار دوروں سے انتخابی ماحول این ڈی اے کے حق میں مضبوط ہوگا۔ واضح رہے کہ بہار اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ 6 نومبر کو اور دوسرا مرحلہ 11 نومبر کو ہوگا، جبکہ ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

