Bharat Express DD Free Dish

Bihar Politics

بہار میں ڈبل انجن حکومت ہے۔ بی جے پی اور جے ڈی یو اقتدار میں ہیں۔ لیکن اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ بہار کو سنبھالنے میں نتیش حکومت کس طرح ناکام رہی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں پرشانت کشور (Prashant Kishor) یعنی پی کے کے کئی امیدواروں نے اپنے نام واپس لے لیے ہیں۔ ایسے میں جن سوراج (Jan Suraj) نے اب جوابی کارروائی کا نیا منصوبہ تیار کیا ہے۔

لالگنج سیٹ سے آر جے ڈی کی امیدوار شیوانی شکلا کو گولی مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے پولیس کنٹرول روم میں فون کر کے آر جے ڈی امیدوار کو گولی مارنے کی دھمکی دی۔

گہلوت نے اعلان کیا ہے کہ مہاگٹھ بندھن کل ایک پریس کانفرنس کرے گا تاکہ اتحاد کی طاقت اور یکجہتی کو واضح کیا جا سکے۔ انہوں نے بی جے پی پر ’اسپانسرڈ مہم‘ چلانے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کی طرف سے کانٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کے اعلان پر مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے سخت تنقید کی ہے۔ نتیانند رائے نے کہا ہے کہ تیجسوی کے جھانسے میں بہار کے لوگ نہیں آئیں گے اور این ڈی اے حکومت قائم رہے گی۔

چراغ پاسوان نے آر جے ڈی اور کانگریس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو پارٹیاں اپنا اتحاد نہیں سنبھال سکتیں، وہ بہار جیسے بڑی اور حساس ریاست کو کیسے ایک ساتھ رکھ پائیں گی؟

آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کی عوام تبدیلی چاہتی ہے۔ انہوں نے کانٹریٹ پر کام کرنے والے ملازمین اور جیوِکا دیدیوں کو مستقل کرنے، ان کی تنخواہیں بڑھانے اور اقتصادی انصاف دینے کا اعلان کیا۔

منگل کے روز سے بہار اسمبلی انتخابات کے لیے نتیش کمار نے باضابطہ طور پر ریلیوں اور جلسوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں مظفرپور کی ایک ریلی کے دوران ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ عام طور پر عوام لیڈران کو ہار پہناتی ہے، لیکن بہار میں اس کے برعکس ہوا۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار نے ایک خاتون سے، جو اسٹیج پر ہار لے کر چڑھی تھی، وہی ہار لے کر اُسی خاتون کو پہنا دیا۔

سوشل میڈیا پر عوامی رائے لینے کے بعد جیوتی سنگھ نے دیا بڑا سیاسی اشارہ، شوہر پون سنگھ پر لگائے تھے سنگین الزامات۔ حال ہی میں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ جیوتی سنگھ نے پون سنگھ سے علیحدگی کے بدلے 30 کروڑ روپے کے الاؤنس کا مطالبہ کیا ہے۔

بہار بی جے پی کے صدر دلیپ جیسوال نے عظیم اتحاد پر نشستوں کی تقسیم میں تاخیر کو لے کر نشانہ سادھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عظیم اتحاد میں آپسی جھگڑا اور رسہ کشی جاری ہے، جبکہ این ڈی اے متحد ہو کر انتخابی میدان میں اتر چکا ہے۔