Bharat Express DD Free Dish

Bihar Politics

بہار اسمبلی انتخابات 2025 سے متلعق  سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے۔ اسی دوران جن سوراج کے سربراہ پرشانت کشور یعنی پی کے پر پارٹی کے اندر سے ہی سوال اٹھنے لگے ہیں۔

بہارشریف اسمبلی سیٹ نالندہ لوک سبھا حلقے کا حصہ ہے۔ اس میں بہارشریف اور رہوئی علاقے شامل ہیں۔ چونکہ یہ ضلع ہیڈکوارٹر ہے، اس لیے یہ علاقہ انتظامی اور سیاسی دونوں لحاظ سے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔

بہار انتخابات کے لیے کانگریس کی جانب سے جاری کردہ اسٹار پرچارکوں کی فہرست میں پارٹی کے قومی صدر ملیکارجن کھڑگے، رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کے علاوہ کانگریس کے زیر اقتدار والی  ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، نائب وزرائے اعلیٰ اور ریاستی صدور شامل ہیں۔

استھاواں کا گیلانی گاؤں اپنی منفرد شناخت کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے آم ملک اور بیرون ملک مشہور ہیں۔ اس گاؤں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ چاہے ہندو ہوں یا مسلمان، تقریباً سب لوگ اپنے نام کے آگے ’گیلانی‘ بطور خاندانی نام استعمال کرتے ہیں۔

بہار اسمبلی انتخابات کے لیے جے ڈی یو نے 44 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ اس طرح پارٹی کا 101 سیٹوں کا کوٹہ مکمل ہو گیا ہے۔

سابق رکن پارلیمنٹ سورج بھان سنگھ نے آر ایل جے پی چھوڑ کر آر جے ڈی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ ان کی اہلیہ وینا دیوی کو موکاما سے امیدوار بنائے جانے کی بات ہو رہی ہے۔ جے ڈی یو نے اننت سنگھ کو ٹکٹ دیا ہے، جس سے اس سیٹ پر مضبوط امیدواروں کے درمیان مقابلہ طے ہو گیا ہے۔

ایل جے پی (رام ولاس) کو 29، راشٹریہ لوک مورچہ اور ’ہم‘ کو 6-6 سیٹیں، تمام اتحادی جماعتوں نے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ 243 رکنی بہار اسمبلی کے لیے ووٹنگ 6 نومبر اور 11 نومبر کو ہوگی، جب کہ گنتی 14 نومبر کو کی جائے گی۔

بہار میں انتخابی ماحول نے سیاسی ہلچل بڑھا دی ہے۔ بی جے پی لیڈران سے ملاقات کے بعد میتھلی ٹھاکر کا نیا بیان زیر بحث ہے۔ جبل پور کے نرمدا مہوتسو میں میتھلی ٹھاکر نے کہا اگر پارٹی ٹکٹ دے تو میں اپنے گاؤں کے علاقے مدھوبنی سے انتخاب لڑنا چاہوں گی۔

راہل گاندھی آن لائن شرکت کریں گے، اجلاس کی صدارت پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کریں گے۔ آر جے ڈی اور بایاں محاذ کے ساتھ سیٹوں کی تقسیم پر غور متوقع۔

نیتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے اتحاد کو مضبوط مانا جا رہا ہے۔ سروے میں 42 فیصد ووٹرز نے نیتیش کمار کو اپنا پسندیدہ وزیر اعلیٰ قرار دیا، جبکہ تیجسوی یادو کو صرف 15 فیصد حمایت ملی ہے۔