Bharat Express DD Free Dish

Bihar Politics

کانگریس جنرل سکریٹری 26 اور 27 اگست کو سوپول اور سیتامڑھی کا دورہ کریں گی۔ وہ جانکی مندر میں پوجا کریں گی اور خواتین ووٹروں کو اپوزیشن کا پیغام پہنچانے کی کوشش بھی کریں گی

لالو پرساد نے عوام سے اپیل کی کہ سب متحد ہو کر راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کے ساتھ مل کر بی جے پی کو اقتدار سے ہٹائیں اور جمہوریت کو مضبوط ہونے دیں۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے روایتی عوامی انداز میں کہا ’’لاگل لاگل جھولنیاں میں دھکا، بلم کلکتہ چلا‘‘ جس پر مجمع میں قہقہے گونج اٹھے۔

اپوزیشن جماعتیں مسلسل ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹر لسٹ میں جانبدارانہ تبدیلیاں کر کے بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

آج کی سماعت میں عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد یہ طے کر سکتی ہے کہ ووٹروں کے نام حذف کرنے کا موجودہ طریقہ آئینی اور قانونی معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ اس فیصلے کے اثرات بہار کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل پر پڑسکتے ہیں۔

کانگریس نے کہا کہ یہ فراڈ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح یہ لوگ ملک بھر میں بی جے پی والوں کو دوہری تہری شہریت دے رہے ہیں۔ کہیں ایک پتہ پر 80-80 ووٹ ڈالے جا رہے ہیں تو کہیں ایک شخص چار بار ووٹ دے رہا ہے۔ الیکشن کمیشن اور بی جے پی، چور چور موسیرے بھائی۔

تیجسوی نے کہا کہ ڈومیسائل پالیسی کا مطالبہ پچھلے 20 سال سے اٹھ رہا ہے، لیکن حکومت نے اب جا کر اس پر قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے یہ پالیسی ضروری ہے، جیسا کہ کئی ریاستوں میں اسے پہلے ہی نافذ کیا جاچکا ہے۔

ایس آئی آر کے تحت ووٹر لسٹ کی اصلاح کا یہ عمل انتخابی نظام کو شفاف، درست اور فرضی ووٹنگ سے پاک بنانے کی کوشش ہے۔ کمیشن نے بتایا کہ دو جگہ اندراج اور غیر مستحق ووٹروں کے اخراج کے ذریعے ووٹر لسٹ کو معیاری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

یہ تنازعہ اب محض ایک فہرست یا ایک نام کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ انتخابی شفافیت اور جمہوریت پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کیا واقعی بہار میں لاکھوں ووٹ حذف کیے گئے؟ یا یہ صرف سیاسی شور ہے؟ الیکشن کمیشن اور تیجسوی یادو کے بیانات نے اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے کہا کہ پی ایم مودی کا یہ بیان کہ پسماندہ کو ترجیح دی گئی ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ پی ایم مودی سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتے ہیں۔

یہ چونکا دینے والا واقعہ چمپارن ضلع میں پیش آیا، جہاں مہاتما گاندھی نے 10 اپریل 1917 کو اپنی پہلی عدم تشدد پر مبنی سیاسی تحریک کا آغاز کیا تھا۔