Bharat Express DD Free Dish

Bihar Politics

پرانے لمحات کو دوبارہ یاد دلانے کا مقصد یہ ظاہر کرنے کی کوشش ہے کہ نتیش کمار نے کئی بار سیاسی موقف بدلا ہے اور اپوزیشن انہیں اسی نقطے پر گھیرنا چاہتی ہے۔ یہ تصاویر یاد دلاتی ہیں کہ کبھی وہ اپوزیشن اتحاد کے مرکزی ستون تھے،

پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ای وی ایم کے جائزے اور بیلٹ پیپرز کی واپسی پر قومی بحث ہونی چاہیے۔ آنے والے دنوں میں بہار کی سیاست میں یہ مسئلہ اور بھی اہم بن سکتا ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے ساتھ ہی سیاسی ماحول گرم ہے۔ ٹوٹتے ہوئے یادو خاندان کے خلاف رابڑی رہائش گاہ کے سامنے کارکنوں نے احتجاج کیا۔ ایسے میں تیجسوی یادو اب کیا کریں گے؟

بہار اسمبلی انتخابات مکمل ہو چکے ہیں، لیکن اس میں پی کے یعنی جن سوراج کے پرشانت کشور پر این ڈی اے کو فائدہ پہنچانے کے لیے بی جے پی کی بی ٹیم کی طرح کام کرنے کے الزامات لگ رہے ہیں۔ آئیے جانیں اس کی بنیاد کیا ہے؟

سابق مرکزی وزیر آر کے سنگھ نے بہار اسمبلی انتخابات کے دوران مجرمانہ پس منظر رکھنے والوں کو ٹکٹوں کی تقسیم پر تنقید کی تھی۔ جس کا نوٹس لیتے ہوئے بی جے پی نے معطلی کا نوٹس دیا تھا، آج باضابطہ طور انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

این ڈی اے نے ابھی تک چیف منسٹر کے نام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ بی جے پی، جے ڈی یو، ایل جے پی (رام ولاس)، ایچ اے ایم اور آر ایل ایم سمیت اتحاد کی اتحادی جماعتوں کے سرکردہ لیڈران جلد ہی قیادت پر فیصلہ کرنے کے لیے ملاقات کریں گے

روہنی آچاریہ نے سیاست سے استعفیٰ دینے اور خاندان سے علیحدگی کے بارے میں کہا کہ اب میرا کوئی خاندان نہیں ہے۔ میرے بھائیوں نے مجھے الگ کر دیا ہے۔ وہ ذمہ داری نہیں لینا چاہتے۔ پورا ملک پوچھ رہا ہے کہ پارٹی کیوں ناکام ہوئی۔

جہاں بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج نے این ڈی اے کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی ہے وہیں اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے سیمانچل علاقے میں ایک بار پھر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اے آئی ایم آئی ایم نے پانچ سیٹیں جیتی ہیں۔

کچھ سیٹیں ایسی ہیں جہاں امیدوار صبح 11 بجے سے ہی تقریباً 10 ہزار ووٹوں سے آگے ہیں۔ ان میں بکسر کے مُنا تیواری سمیت منیر سے بھائی ویرندر کا نام بھی شامل ہے۔

ان انتخابات کے تین ایسے اہم عوامل ہیں جو نتائج کی سمت اور رفتار طے کرنے والے ہیں۔ ایگزٹ پولز کے رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان تینوں عوامل نے دونوں اتحادوں کو بیک وقت خوشی اور مایوسی دی ہے۔