بہار اسمبلی انتخابات میں بری طرح شکست کھانے کے بعد مہاگٹھ بندھن کے اندر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل (RJD) اور کانگریس کے درمیان سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے اور دونوں ایک دوسرے پر سخت الزامات لگا رہے ہیں۔ کانگریس کی جانب سے ترجمانی کا ذمہ شکیل احمد نے سنبھالا ہے۔
کانگریس کا آرجےڈی پر الزام — اتحاد نے کیا نقصان
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شکیل احمد نے کہا کہ’’ہمارے کئی امیدواروں کا کہنا ہے کہ اگر ہم آرجےڈی کے ساتھ اتحاد نہ کرتے تو انتخابی نتائج زیادہ بہتر ہوتے۔ مستقبل میں کیا حکمت عملی اپنائی جائے گی، اس کا فیصلہ پارٹی کا اعلیٰ قیادت کرے گی۔‘‘ یہ بیان بازی اس وقت شروع ہوئی جب کانگریس کے رہنماؤں نے دہلی میں پارٹی ہائی کمان کی بلائی گئی جائزہ میٹنگ میں کھل کر آرجےڈی پر ناراضگی ظاہر کی۔
’جنگل راج‘ بیانیے اور اعلیٰ ذات کے ووٹ بینک کا مسئلہ
ذرائع کے مطابق کانگریس کے کئی لیڈروں کا ماننا ہے کہ بی جے پی کی جانب سے اٹھایا گیا ’’جنگل راج‘‘ کا مسئلہ ان کی انتخابی حکمت عملی پر بھاری پڑا۔ ان کے مطابق آرجےڈی کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے اعلیٰ ذات کا ووٹ بینک کانگریس سے ناراض ہو کر این ڈی اے کی طرف چلا گیا۔
’’اکیلے لڑو، حقیقت خود سامنے آ جائے گی:آرجےڈی‘‘
کانگریس کے الزامات کے جواب میں آرجےڈی نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے ریاستی صدر منگنی لال منڈل نے کہا: ’’اگر کانگریس بہار میں اکیلے لڑنا چاہتی ہے تو ضرور لڑے، اسی سے ان کو اپنی اصل اوقات کا اندازہ ہو جائے گا۔‘‘ ان کا دعویٰ تھا کہ کانگریس کو جو بھی ووٹ اور سیٹیں ملی ہیں وہ صرف آرجےڈی کے سبب ملیں، ورنہ کانگریس تو بہار میں پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔
سیٹوں کی تقسیم پر بھی رہا تنازعہ
منڈل نے مزید کہا کہ: ’’2020 کے انتخابات میں کانگریس نے 70 سیٹیں مانگیں اور صرف 19 جیت سکیں۔ حالیہ انتخابات میں بھی صورت حال تقریباً یہی رہی۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ اکیلے بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں تو ضرور آزمائیں۔‘‘ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انتخاب سے پہلے سیٹوں کی تقسیم کے دوران بھی کانگریس اور آرجےڈی کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے تھے جس کی وجہ سے مہاگٹھ بندھن کی انتخابی مہم میں تاخیر ہوئی۔
کیا باقی رہے گا عظیم اتحاد؟
بہار انتخابات میں شکست کے بعد جہاں نتائج پر تجزیہ جاری ہے، وہیں کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کے درمیان بڑھتی یہ سیاسی تلخی مستقبل کے اتحاد پر بڑے سوال کھڑے کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ اختلافات ختم ہوتے ہیں یا یہ سیاسی رشتہ باضابطہ طور پر ٹوٹ جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


