Bharat Express DD Free Dish

political war of words

پیوش گوئل کے اس سخت بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت-یورپی یونین ایف ٹی اے کو لے کر سیاسی محاذ پر تکرار مزید تیز ہو گئی ہے۔ جہاں حکومت اسے بھارت کی بڑی سفارتی اور تجارتی کامیابی قرار دے رہی ہے، وہیں کانگریس اس پر سوال اٹھا رہی ہے۔ تاہم حکومت کا دعویٰ ہے کہ موجودہ دور کے معاہدے بھارت کے قومی مفادات کے مکمل تحفظ کے ساتھ کیے جا رہے ہیں اور یہی ملک کی مضبوط اور خودمختار معیشت کی بنیاد ہیں۔

وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے دعویٰ کیا کہ جیسے جیسے تفتیش آگے بڑھے گی، سماج وادی پارٹی سے وابستہ افراد کے روابط سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے بھی اس معاملے کو این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت چلانے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے سخت لہجے میں کہا: ’’اس معاملے میں کوئی بھی ملزم بچ نہیں پائے گا۔ اور فکر نہ کریں، جب وقت آئے گا تو بلڈوزر کارروائی کی تیاری بھی کی جائے گی۔ اُس وقت شکایت مت کیجیے گا۔‘‘

امت شاہ نے واضح کیا کہ وہ اپنی تقریر کے طریقۂ کار اور ترتیب کا فیصلہ خود کریں گے اور اپوزیشن کو صبر سے سننا چاہیے۔ وزیرداخلہ کے جواب کے دوران اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا جس کے بعد لوک سبھا کی کارروائی 11 دسمبر صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

انتخابات کے بعد اتحاد میں آپسی انتشار، شکست کے بعد دونوں جماعتوں میں الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ کانگریس نے اتحاد کو نقصان دہ بتایا جبکہ آرجے ڈی نے کہا  جو سیٹیں ملی ہیں وہ ہماری ہی بدولت ملی ہیں۔

راہل گاندھی نے حال ہی میں ہریانہ کے انتخابات میں بھی بڑے پیمانے پر دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ: ’’اگر ووٹر لسٹ جھوٹی ہے تو پھر جمہوریت باقی نہیں رہتی۔‘‘ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ سچ اور عدم تشدد کے ذریعے جمہوریت کو بچانے کے لیے آگے آئیں۔