بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار سے تیجسوی یادو نے ہمدردی کا اظہارکیا۔ (فائل فوٹو)
بہار میں اسمبلی انتخابات مکمل ہو نے کے بعد آخر کار اب وہ وقت آ ہی گیا ہے جب ووٹوں کی گنتی شروع ہو جائے گی۔ جمعہ کو صبح 8 بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہو رہی ہے۔ اس کے لیے الیکشن کمیشن نے ریاست کے 38 اضلاع میں قائم 46 گنتی مراکز پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔ بہار میں 243 رکنی اسمبلی کے لیے 6 اور 11 نومبر کو دو مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ اس سال انتخابات میں 67.13 فیصد کی تاریخی ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ زیادہ تر ایگزٹ پول میں این ڈی اے حکومت کی واپسی کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔
اگرچہ کچھ ایگزٹ پول میں عظیم اتحاد کی حکومت بننے کے دعوے کیے گئے ہیں، لیکن دونوں ہی اتحاد اپنے اپنے حق میں حکومت سازی کے دعوے کرتے ہوئے پرجوش نظر آ رہے ہیں۔ اس انتخاب میں ریکارڈ توڑ ووٹنگ کے بعد جہاں عظیم اتحاد کو تبدیلی کی لہر دکھائی دے رہی ہے تو وہیں این ڈی اے کو ایک بار پھر اقتدار میں واپسی کی امید ہے۔ بہرحال، ان انتخابات کے تین ایسے اہم عوامل ہیں جو نتائج کی سمت اور رفتار طے کرنے والے ہیں۔ ایگزٹ پولز کے رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان تینوں عوامل نے دونوں اتحادوں کو بیک وقت خوشی اور مایوسی دی ہے۔
خواتین ووٹرز: ایک بڑا فیکٹر
خواتین کا جھکاؤ این ڈی اے کی جانب زیادہ رہا ہے۔ پردیپ گپتا نے بتایا کہ 45 فیصد خواتین کے ووٹ این ڈی اے کے حصے میں گئے ہیں، جبکہ 40 فیصد ووٹ عظیم اتحاد کو ملے ہیں۔ یعنی خواتین ووٹ کے محاذ پر این ڈی اے کو 5 فیصد کی برتری حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق اس رجحان کی بڑی وجہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی خواتین مرکوز اسکیمیں ہیں، جنہوں نے خواتین ووٹرز کو متاثر کیا ہے۔
دوسرا اہم فیکٹر: نوجوان ووٹرز
بہار انتخابات میں عمر کے لحاظ سے نوجوان ووٹرز کا ووٹنگ پیٹرن خاصا دلچسپ رہا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ 18 سے 19 سال کے پہلی بار ووٹ ڈالنے والے 46 فیصد نوجوانوں نے عظیم اتحاد کو ووٹ دیا، جبکہ 37 فیصد نے این ڈی اے کے حق میں ووٹ کیا۔ اسی طرح 20 سے 29 سال کے نوجوانوں میں 44 فیصد نے عظیم اتحاد کو اور 37 فیصد نے این ڈی اے کو ووٹ دیا۔ تیسری عمر کیٹیگری یعنی 30 سے 39 سال کے ووٹرز میں 43 فیصد نے این ڈی اے اور 42 فیصد نے عظیم اتحاد کو ووٹ دیا۔جبکہ 40 سے 49 سال کی عمر کے ووٹروں میں 45 فیصد نے این ڈی اے اور 41 فیصد نے عظیم اتحاد کے حق میں ووٹ کیا ہے۔
تیسرا اہم فیکٹر: ذات پات کا توازن
ذات پر مبنی ووٹنگ پیٹرن کی بات کریں تو ایگزٹ پول کے مطابق 61 فیصد ای بی سی (انتہائی پسماندہ طبقات) نے این ڈی اے کو ووٹ دیا، جبکہ عظیم اتحاد کو صرف 23 فیصد ای بی سی ووٹ حاصل ہوئے۔دوسری طرف ریاست کی سب سے بڑی ذات — یادو برادری — میں سے 90 فیصد ووٹ عظیم اتحاد کے حق میں گئے، جب کہ صرف 6 فیصد نے این ڈی اے کو ووٹ دیا۔اسی طرح 79 فیصد مسلمانوں نے عظیم اتحاد کے حق میں ووٹ کیا، جبکہ محض 8 فیصد نے این ڈی اے کو ووٹ دیا۔
دونوں اتحادوں میں خوشی اور غم
یہ ایک ایسا عنصر ہے جسے لے کر دونوں ہی اتحاد اپنی جیت کے دعوے کر رہے ہیں۔ عظیم اتحاد کا ماننا ہے کہ ایم وائی (مسلم-یادو) فارمولے کے تحت 31 فیصد آبادی کا ووٹ یکطرفہ طور پر اس کے حق میں گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ای بی سی، بھومیہار اور کوئیری برادریوں میں بھی دراڑ ڈالنے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کی وجہ سے اسے اپنی جیت کے امکانات زیادہ لگ رہے ہیں۔عظیم اتحاد نوجوان فیکٹر کو لے کر بھی پُرامید ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ نوجوان طبقہ نوکریوں کے وعدوں سے اس کی جانب راغب ہوا، جو اس کی جیت کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 49 فیصد بے روزگاروں اور 48 فیصد طلبہ نے بھی عظیم اتحاد کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔ دوسری جانب این ڈی اے کو یقین ہے کہ خواتین ووٹرز اور ذات پات کے توازن کا فیکٹر اس کے لیے وردان ثابت ہوگا۔ بہرحال دونوں اتحادیوں کی جانب سے دعوے کچھ بھی ہوں لیکن اصل تصویر تھوڑی دیر میں ووٹوں کی گنتی شروع ہونے کے بعد صاف ہونے لگے گی۔ اس لیے تمام لوگوں کی نگاہیں ووٹوں کی گنتی پر لگی ہوئی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
