Bharat Express DD Free Dish

Bihar Crime News

جگت سنگھ پور گاؤں میں لڑکی اور اس کے ساتھی کو مبینہ طور پر گھیر کر گالی گلوج اور بدسلوکی، ’بیڈ ٹچ‘ کی کوشش کا الزام، وائرل ویڈیو کے بعد پولیس نے شروع کی تحقیقات

شام تک گاؤں والوں کی مدد سے مسلسل تلاش جاری رہی۔ اسی دوران گاؤں کے قریب کھدائی کے دوران بنائے جا رہے ایک تالاب کے کنارے بچے کی لاش ملی۔ لاش دیکھ کر اہل خانہ اور مقامی لوگوں میں کہرام مچ گیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ بچے کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش تالاب کے کنارے پھینک دی گئی تھی۔پ

واقعے کی اطلاع ملتے ہی کمارباغ اور چنپٹیا تھانوں کی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والے امدادی اور تلاش کے آپریشن کے بعد پولیس نے تینوں بچوں کی لاشیں نہر سے برآمد کر لیں۔ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق مغربی بنگال کے دالکولا کا رہنے والا سندیپ داس اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ دربھنگہ کے چندن پٹی علاقے میں ایک مرغی فارم پر کام کرتا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس کا اپنی بیوی پھول کماری داس کے ساتھ اکثر جھگڑا ہوتا رہتا تھا۔

بہار کے کیمور (رام گڑھ) میں 4 سر کٹی لاشوں کی گتھی پولیس نے سلجھا لی ہے۔ جائیداد کے تنازع اور مبینہ ظلم و ستم سے تنگ آ کر سگے بھائیوں نے دو بچوں سمیت 4 افراد کا قتل کر دیا تھا اور لاشوں کو دریائے درگاوتی میں پھینک دیا تھا۔ ’آنگن واڑی ڈریس‘ سے ملے سراغ نے اس سنسنی خیز قتل کا راز فاش کر دیا۔

افسوسناک واقعہ خداگنج تھانہ علاقہ کے جیٹھؤنا گاؤں میں پیش آیا، جہاں منگل کی دیر رات ایک گھر کے کمرے سے خاتون اور اس کی بیٹی کی لاشیں ملی ہیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دیا۔

نامعلوم بدماشوں نے روہوا پیٹرول پمپ کے نزدیک واقع ایک گھر کو نشانہ بناتے ہوئے کئی راؤنڈ فائرنگ کی۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی آس پاس کے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ واقعے کی اطلاع پولیس کو دے دی گئی ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ 20 برس کی این ڈی اے حکومت سے نوجوانوں نے کیا مانگا؟ اپنے حصے کی نوکری اور روزگار ہی تو مانگا، مگر اس بدعنوان این ڈی اے حکومت نے نوجوانوں کی ضروریات پر کبھی توجہ نہیں دی۔ نوجوانوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔

زخمی ہوم گارڈ جوان کو فوری طور پر علاج کے لیے صدر اسپتال لایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ دوسری جانب مہلوک کے اہل خانہ نے اسے ایک سازش قرار دیتے ہوئے واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف قانون و انصاف کے نظام کو جھنجھوڑ دینے والا ہے بلکہ معاشرے کے لیے بھی ایک گہری تشویش کا باعث ہے۔ عوامی سطح پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ایک ایمبولینس جیسی محفوظ مانی جانے والی گاڑی میں بھی خواتین محفوظ کیوں نہیں؟