Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

اس سے ایک روز قبل اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بیلالل اسموٹریچ نے بستیوں میں تین ہزار سے زائد مکانات تعمیر کرنے کا اشارہ دیا تھا۔

نجامن نیتن یاہونے کابینہ کے اجلاس سے قبل میڈیا پرشائع ہونے والے بیانات میں مزید کہا، "یرغمالیوں کورہا کرنے کی کوششیں ہر وقت جاری رہیں گی۔" انہوں نے کہا، "جیسا کہ میں نے وزراء کی سلامتی کونسل میں بھی زوردیا، ہم معاہدے کے ہر فارمولے پرمتفق نہیں ہوں گے، کسی قیمت پرنہیں۔"

مڈل ایسٹ سے لیکر یورپ  تک  جنگ جاری ہے ۔ روس یوکرین کی جنگ ہو یا  حماس اسرائیل کی یا پھر حوثیوں کے خلاف بحر احمر میں جنگ ہو، ان تمام جنگوں میں امریکہ واحد ایسا ملک ہے جو ہر جگہ موجود ہے۔ اسرائیل حماس جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔

اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ حماس ہر اُس سنجیدہ اور عملی اقدام کا خیر مقدم کرے گی جو قیدیوں کے تبادلے سمیت غزہ میں جنگ و محاصرے کے خاتمے اور انفراسٹرکچر کی دوبارہ بحالی کا باعث بنے۔ واضح رہے کہ پیرس میں امریکہ، اسرائیل، مصر اور قطر کے مذاکرات کار غزہ میں جنگ بندی اور صیہونی قیدیوں کی رہائی کے لئے کسی نتیجے تک پہنچے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیلی شہروں پر حملے کئے۔ نیز حماس نے اپنے حملے کو بار بار دہرانے کا عزم کیا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی جنگ حماس کے خلاف ہے، فلسطینی شہریوں کے خلاف نہیں۔

نئی قانون سازی نے حکومت اور وزراء کے فیصلوں کو منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے پاس موجود ٹولز میں سے ایک کو ہٹا دیا تھا، لیکن تمام نہیں۔ اس نے عدالت کی ایسے فیصلوں کو کالعدم قرار دینے کی اہلیت کو چھین لیا جو اسے "غیر معقول" سمجھتے تھے۔لیکن اب عدالت نےا س قانون کو ہی منسوخ کردیا ہے۔

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اسرائیلی قیادت کے درمیان اتفاق وتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اختلافات سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی لیڈرشپ کے درمیان اختلافات موجودہ جنگی کوششوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ حماس کے خلاف جاری جنگ میں پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔

اسرائیل غزہ پر مسلسل گولہ باری کر رہا ہے جس سے 7 اکتوبر سے اب تک تقریباً 19,000 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ مزید ہزاروں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں دوحہ میں  ہونے والی مذاکرت کے ٹوٹنے کے بعد سے باضابطہ طور پر مذاکرات دوبارہ شروع نہیں ہوسکی ہے۔

غزہ میں 18 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ اس میں بیشترخواتین اوربچے شامل ہیں۔ اس درمیان حماس سربراہ اسمٰعیل ہانیہ نے کہا کہ اسرائیلی حملے کو روکنے کے لئے ہم کسی بھی تبادلہ خیال اور پہل کرنے کے لئے تیار ہیں۔