Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

مشرق وسطیٰ میں ہندوستان کے بڑھتی حصہ داری کو دیکھتے ہوئے ہمارے لیے بھی پیشرفت ایک سفارتی چیلنج بن کر آیا ہے۔ عرب ممالک کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی روشن ترین کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

2017 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے وزیر اعظم بنے۔ اس سے پہلے کسی بھارتی وزیراعظم نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ اسرائیل کا فرض ہے کہ وہ اپنے عوام کو حماس اور دیگر گروپ سے محفوظ رکھے اور مستقبل میں ہونے والے حملوں کو روکے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ میں روس نے اسرائیل اورفلسطین کے درمیان جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔ جانکاری کے مطابق، روس نے امن کی تجویزکا مسودہ پیش کیا ہے۔ حماس نے روس کی جنگ بندی کی پیشکش کا احترام کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ اپنا حملہ تب تک نہیں روکیں گے جب تک حماس کو پوری طرح سے ختم نہیں کردیتے۔ اسرائیل کے اس اعلان کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل سے یہ خاص اپیل کی ہے۔

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم یائر لاپڈ نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا وہ نئی اعلان کردہ ہنگامی کابینہ کا حصہ بنیں گے جس میں نیتن یاہو اور گینٹز شامل ہیں۔ تاہم، نئی جنگی کابینہ کا اعلان کرنے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر لیپڈ نے شمولیت کا فیصلہ کیا تو ان کے لیے ایک نشست "مخصوص" ہوگی۔

وزیراعظم مودی کا کہنا ہے کہ ہندوستان دہشت گردی کی ہرشکل کی مذمت کرتا ہے۔ ہندوستان اس وقت اسرائیل کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بماری سے مرنے اور زخمیوں کی تعداد ان ڈیٹا سے کئی گناہ زیادہ ہے ۔ جو میڈا بتارہی ہے ۔ جس طرح سے اسرائیل بم برسارہا ہے ۔ کیا یہ تعداد کم از کم 560 ہوسکی ہے؟

نتن یاہو نے  ایس آئی آر سی سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی وسطیٰ کی تصویر بدلنے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ایک مہم کے درمیان ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کو ایک مشکل اور خوفناک آزمائش سے گزرنا پڑا ہے۔ حماس کو جو تجربہ ہوگا وہ مشکل اور خوفناک ہوگا،ہم پہلے ہی مہم میں ہیں اور ہم ابھی شروعات کر رہے ہیں۔

حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ جنگجوؤں نے اعداد و شمار فراہم کیے بغیر "درجنوں" اسرائیلی فوجیوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اغوا کیے گئے اسرائیلی فوجیوں کو "محفوظ مقامات" اور سرنگوں میں رکھا جا رہا ہے۔