Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh Crisis

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے قبل ہی سیاسی ماحول شدید کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ غازی پور ضلع میں بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی) کے دو گروپوں میں پارٹی کے نامزدگی فارم کو لے کر خوفناک تصادم ہوئی، جس میں کم از کم 10 افراد زخمی ہو گئے۔

بنگلہ دیش کی معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کو انٹرنیشنل کرائم ٹربیونل (آئی سی ٹی) کی جانب سے دی گئی سزائے موت کے فیصلے کے بعد ملک کی سیاست میں بھونچال آ گیا ہے۔ شیخ حسینہ کے بیٹے اور عوامی لیگ پارٹی کے اہم لیڈر ساجیب احمد واجد نے اس فیصلے کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیتے ہوئے یونُس حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کوبنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمزٹریبونل سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے ان کے دفاع کے لئے سینئر وکیل امین الغنی کو فراہم کیا ہے۔ یہ فیصلہ شیخ حسینہ کے لئے راحت کی بات ہے کیونکہ امین الغنی کا شمار بنگلہ دیش کے سرکردہ وکلاء میں ہوتا ہے۔

گزشتہ ہفتے بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے ڈھاکہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "اپریل کسی بھی طرح انتخابات کے لیے موزوں نہیں ہے۔

محمد یونس نے کہا کہ انتخابات دسمبر 2025 سے 30 جون 2026 کے درمیان ہوں گے، لیکن ابھی تک واضح ٹائم لائن یا تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی) نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے الزام لگایا ہے کہ انتخابات کو ملتوی کرنے اورشہریوں کو ان کے حق رائے دہی سے محروم کرنے کی سوچی سمجھی سازش کی جارہی ہے۔

یہ صرف ایک انفرادی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ پورے سیاسی نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے، جہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے  قائم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

چنمے کرشنا بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے کام کرنے میں شامل رہے ہیں۔ وہ بنگلہ دیش میں ہندو برادری کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں، جو اقلیتوں کے تحفظ کے قانون، اقلیتوں پر تشدد کے مقدمات کی جلد سماعت کے لیے ایک ٹریبونل، اور اقلیتی امور کے لیے ایک وقف وزارت کے قیام جیسی اہم اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

بنگلہ دیش کی فوج نے حال ہی میں ایک میڈیا رپورٹ کی تردید کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ فوج کے اعلیٰ افسران نے تختہ پلٹ کی خدشات سے متعلق ایمرجنسی میٹنگ بلائی تھی۔ فوج نے اس رپورٹ کو پوری طرح سے جھوٹا اور بے بنیاد قراردیا ہے۔

جنرل وقار نے بگڑتے ہوئے امن و امان، غلط معلومات کا خطرہ اور اشتعال انگیز بیان بازی سمیت اہم خدشات کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ملک اور اس کی عوام فوج کی اولین ترجیح بنی ہوئی ہے۔‘‘ آرمی چیف نے فوجیوں سے اپیل کی کہ وہ محتاط رہیں اور اشتعال انگیزی کا شکار نہ ہوں۔