Bharat Express DD Free Dish

Anurag Thakur

ایک تحریری جواب میں، اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ زیر بحث ویب سائٹس نے ایسا مواد شائع کیا ہے جو ہندوستان کی خودمختاری اور سالمیت، ہندوستان کے دفاع، ریاست کی سلامتی، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات یا امن عامہ کے مفاد میں نہیں پایا گیا ہے ۔

فلم اوپن ہائیمر میں ایک جگہ مباشرت کرتے ہوئے ایک سین دکھایا گیا ہے جس دوران ایکٹر کو بھگوت گیتا کا اشلوک پڑھتے ہوئے دیکھاگیا ہے۔ ایسا کرنے سے ہندو برادری کے جذبات کو ٹھیس پہنچا ہے جس سے ایک بڑا طبقہ اس فلم پر ناراضگی کا اظہار کررہا ہے۔

مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ ملک کی کچھ ریاستوں میں خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور کئی ریاستوں میں اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بیگوسرائے میں جو کچھ ہوا وہ ہمارے سامنے ہے، لیکن وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس پر ایک لفظ بھی نہیں بولے

بھارت چین سرحد کے ساتھ ساتھ دور دراز کے علاقوں کے رہائشیوں کو جلد ہی دوردرشن مفت ڈش کنکشن ملیں گے۔ حکومت ان علاقوں میں موبائل کنیکٹیویٹی کو بہتر بنانے کے لیے بھی تیزی سے کام کر رہی ہے۔

کئی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ جنسی ہراسانی کا الزام لگانے والی 7 خواتین ریسلرز میں سے واحد نابالغ مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے اپنے پہلے بیان سے مکر گئی ہے۔

کھلاڑیوں کے مطابق انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پولیس کی تفتیش 15 جون تک مکمل کر لی جائے گی۔ تب تک حکومت کو وقت دیا جا رہا ہے۔ تب تک کسی قسم کا کوئی مظاہرہ نہیں ہوگا۔

انوراگ ٹھاکر کی بات چیت کی تجویز پر پہلوان ساکشی ملک نے کہا کہ حکومت کی طرف سے دی گئی تجویز پر ہم اپنے سینئرز اور حامیوں سے بات کریں گے

کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ یہ بچے پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ انہیں زبردستی لے جایا گیا۔ ان پر الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ہم نے آج پنچایت میں فیصلہ محفوظ کر لیا ہے، لیکن جلد ہی کھاپ کے نمائندے صدر اور حکومت سے ملاقات کریں گے۔

مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکرنے جمعرات کو کابینہ کی میٹنگ کے بعد بتایا کہ ملک میں ابھی تک کل 1450 لاکھ ٹن ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔ اب کوآپریٹوسیکٹرمیں سات سو لاکھ ٹن اضافی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پرکام شروع ہوگا۔

اتوار 7 مئی کو ہریانہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیرل کی کہانی صرف ایک فلم نہیں ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنے مذہب میں لڑکیوں کو دہشت گردی کے راستے پر لانا چاہتے ہیں، کیرل کی کہانی میں ان کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔