Bharat Express DD Free Dish

Amanatullah khan

دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی یہاں حکومت بنا رہی ہے۔ نہ صرف عام آدمی پارٹی ہار گئی ہے، یہاں تک کہ کانگریس اور اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم بھی اپنا کھاتہ نہیں کھول سکی۔

اوکھلا اسمبلی حلقہ میں امانت اللہ خان نے ہیٹ ٹرک لگائی ہے۔ وہ تیسری بار اوکھلا کی سیٹ سے جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی امیدوار منیش چودھری کو ہرا دیا ہے۔

اوکھلا اسمبلی حلقہ میں عام آدمی پارٹی کے امانت اللہ خان، بی جے پی کے منیش چودھری اور جیل میں بند اے آئی ایم آئی کے امیدوار شفاء الرحمٰن کے درمیان سخت مقابلہ مانا جا رہا ہے۔ ابتدائی رجحان میں پیچھے ہونے کے بعد امانت اللہ خان مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔

قومی دارالحکومت میں تمام 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے 13,766 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ 699 امیدوار میدان میں ہیں۔ شفاف ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے نیم فوجی دستوں کی 220 کمپنیاں، 35,626 دہلی پولیس اہلکار اور 19,000 ہوم گارڈز تعینات کیے گئے ہیں۔

عام آدمی پارٹی کے اوکھلا اسمبلی حلقہ کے صدر محمد خالد کی طرف سے بھی ایک پمفلیٹ رائے دہندگان کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے اور مسلم ووٹوں کی تقسیم نہ ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔

اوکھلا اسمبلی حلقہ میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا عام آدمی پارٹی کے امیدوار اور موجودہ رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ تمام امیدواروں کی طرف سے ان سے ہی سوال پوچھے جا رہے ہیں۔

دہلی اسمبلی الیکشن 2025 میں اوکھلا اسمبلی حلقہ میں دلچسپ مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوار اور موجودہ رکن اسمبلی امانت اللہ ہیٹ ٹرک لگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

اوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو عام آدمی پارٹی نے تیسری بار اپنا امیدوار بنایا ہے۔ ان کے سامنے بی جے پی کے منیش چودھری، کانگریس سے اریبہ خان اور مجلس اتحاد المسلمین کے ٹکٹ پر شفاء الرحمٰن میدان میں ہیں۔

دہلی اسمبلی انتخابات میں اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے امیدوار امانت اللہ خان نے اسد الدین اویسی پر اپنے خلاف امیدوار کھڑا کرنے پر تنقید کی اور کہا کہ وہ بی جے پی کی جیت کو یقینی بنانے آئے ہیں۔

دہلی میں اسمبلی الیکشن کے لئے ریاست کی برسراقتدار عام آدمی پارٹی نے اسٹارکمپینرز کی فہرست جاری کی ہے، جس میں مسلم طبقے سے صرف عمران حسین کو جگہ دی گئی ہے اور سینئر لیڈران کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔