Bharat Express DD Free Dish

Amanatullah khan

امانت اللہ خان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس دو ایف آئی آرز سے متعلق ہے۔ وقف بورڈ میں بے ضابطگیوں سے متعلق سی بی آئی میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ جبکہ دوسرا دہلی اے سی بی کے غیر متناسب اثاثہ جات کے معاملے سے متعلق ہے۔

دہلی کے اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کی عدالتی حراست بڑھا دی گئی ہے۔ انہیں آج راؤزایوینیوکورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں ان کی عدالتی حراست کو7 اکتوبرتک کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت 25 ستمبرکی تاریخ طے کی ہے۔

دہلی کے اوکھلا سے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ وہ روزانہ ای ڈی دفتر میں پیش ہونے کے لئے تیار ہیں۔ انہیں کسی بھی شرط پر رہا کردیا جائے۔

امانت اللہ نے ای ڈی کے بار بار وہی سوالات پوچھنے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں 18 اپریل کو ای ڈی کے سامنے پیش ہوا، مجھ سے 13 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ اب پھر مجھ سے وہی سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔

دہلی کی راوز ایوینیو کورٹ نے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو 4 دنوں کی ای ڈی کی حراست میں بھیجا ہے۔ انہیں منی لانڈرنگ معاملے میں گرفتار کرنے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے امانت اللہ خان کی گرفتاری سے متعلق اپنے سوشل میڈیا ایکس (سابقہ میں ٹوئٹر) میں پرکہا، ”یہ گرفتاری بہت مہنگی پڑے گی بھاجپائیوں۔ دہلی میں بری طرح ہارو گے۔ بغیر ثنوت کے امانت اللہ خان کو گرفتارکیا گیا ہے۔“

گھوٹالے سے متعلق منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی ای ڈی کی ٹیم پیر کی صبح امانت اللہ کے گھر پہنچی تھی۔ یہاں ای ڈی ٹیم اور امانت اللہ کے درمیان جھگڑا ہوا۔ کئی گھنٹے تک چھاپے مارنے کے بعد ای ڈی نے امانت اللہ کو گرفتار کرلیا۔ گرفتاری کے بعد انہوں نے خود کو بے قصور قرار دیا۔

ای ڈی ذرائع نے بتایا ہے کہ جب تفتیشی ایجنسی کی ٹیم امانت اللہ خان کے گھر پہنچی تو انہوں نے دروازہ نہیں کھولا۔ ای ڈی کی ٹیم وقف بورڈ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے لیے عآپ ایم ایل اے کے پاس پہنچی تھی۔

ای ڈی نے 4 اپریل کو سیکشن 174 اور منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کے تحت شکایت درج کی تھی، جو ایجنسی کو پی ایم ایل اے سیکشن 50 کے تحت جاری کردہ سمن کی عدم تعمیل پر سمن جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

عدالت نے ای ڈی کے وکیل اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل سے کہا تھا کہ اگر امانت اللہ خان کے خلاف ثبوت ہیں تو انہیں گرفتار کریں اور اگر ثبوت نہیں ہیں تو انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ سیکشن 19 پی ایم ایل اے کا بندوبست کریں۔