Bharat Express DD Free Dish

All India Muslim Majlis-e-Mushawarat

میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پہلے تشکیل دی گئی مختلف کمیٹیوں کو اپنی رپورٹس گورننگ باڈی کے سامنے پیش کرنی چاہئیں تاکہ ان کی کارکردگی اور پیش رفت کا جائزہ لیا جاسکے اور آئندہ کے لیے مناسب لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ ذمہ داران کواپنی ذمہ داریوں کوپوری سنجیدگی، باقاعدگی اور اجتماعی جذبے کے ساتھ ادا کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا گیا۔

معروف صحافی پرواز رحمانی کے انتقال پر تعزیت کااظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر فیرو احمد ایڈوکیٹ  نے کہا کہ پرواز رحمانی کا انتقال نہ صرف صحافت کے شعبے میں بلکہ مجموعی طور پر ملک و ملت کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔

بنگالی مسلمانوں پر استحصال کے موضوع پر نوید حامد نے کہا کہ سب سے پہلی ذمہ داری بنگال حکومت کی ہے، لیکن بنگال حکومت نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا۔ لیکن آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی لیگل ٹیم اس موضوع پر کام کر رہی ہے تاکہ عدالت جانے سے پہلے تمام تیاریاں مکمل کرلی جائیں۔

مسلم تنظیموں کے وفاق آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ووٹوں کی لوٹ، ایس آئی آر، غیرقانونی انہدام، بنگالی مزدوروں کو نشانہ بنانے اور دہشت گردانہ بم دھماکوں پر حکومت کے دوہرے رویے کو ملک کے لئے خطرناک اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو ملی تنظیموں کا وفاق سمجھا جاتا ہے۔ یہ تنظیم دعویٰ بھی کرتی رہی ہے کہ ملک کی ملی تنظیموں کا یہ مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ حالانکہ اس تنظیم کو ہمیشہ انتشار کا سامنا رہا ہے۔ کبھی الگ گروپ بنانے اورکبھی دوحصوں میں منقسم کرکے قوم کومشکل میں ڈالنے کا عمل چلتا رہا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو ایک بار پھرانتشارکا سامنا ہے۔

مجلس مشاورت کے دفتر میں منعقدہ تقریب میں افطار سے قبل ملک وملت کی خیروعافیت کے لئے اجتماعی دعا کی گئی۔ اللہ رب العزت سے ان سب کیلئے ہدایت مانگی گئی، جو اپنی حرکتوں اوراپنی زبانوں سے سماج میں فتنہ، فساد اورنفرت وعداوت کا سبب بنتے ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید نور اللہ نے کہا کہ ملک اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان منصوبہ بند طریقے سے کشیدگی پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ جنرل سیکریٹری ڈاکٹر ایم. اے. جوہر نے ایجنڈا پیش کیا اور شرکاء سے تجاویز طلب کیں۔ ورکنگ جنرل سکریٹری محمد طیب نے ایجنڈا کی تفصیلات پیش کیں اور اجلاس کے میٹنگز تیار کیے۔

ریٹرننگ آفیسر سید تہسین نے انتخابی نتائج کا اعلان کیا اور ملک بھر سے آئے نمائندوں کی موجودگی میں نئے عہدیداروں کو مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

دراصل مجموعی بجٹ تخفیف کی اہم وجہ کئی ساری اقلیتی اسکیموں کو بند کردینا ہے جیسے کہ پری میٹرک اسکالرشپ جو پہلے درجہ 1 سے 10 تک دی جارہی تھی وہ اب 9 اور 10 کے طلباء کو ہی فراہم کی جارہی ہے۔