Bharat Express DD Free Dish

All India Muslim Majlis-e-Mushawarat

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدرفیروزاحمد ایڈوکیٹ نے کانوڑیاتراکے دوران دکانوں پرنام لکھنے کےیوپی پولیس کے حکم کی شدیدمذمت کی۔

پروفیسر سلیمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کا جلد از جلد مناسب علاج کیا جائے اور اس کے خاطیوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات نہ ہوں۔ ساتھ ہی انہوں نے جاں بحق ہونے والے اور مجروحین کو فی کس ایک کروڑمعاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

مسلمانوں اورمسلم تنظیموں کومتحد کرنے کا دعویٰ کرنے والی آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اب اصلی اورنقلی کے تنازعہ میں الجھ کر رہ گئی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس تنظیم کے دوحصوں میں تقسیم ہونے اوررجسٹرڈ اورغیررجسٹرڈ کے تنازعہ کا شکارہونے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ کرسی اورعہدہ کی لڑائی میں یہ سب ہو رہا ہے۔

 تلنگانہ میں 2018 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں اسدالدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم کو 7 سیٹوں پر جیت ملی تھی۔ وہیں بی جے پی کو تب محض ایک سیٹ سے کامیابی ملی تھی۔ 2013 میں بی جے پی کو 5 سیٹیں ملی تھیں۔

بی آرایس اور کانگریس اور دونوں اکثریت کے اعدادوشمار تک پہنچنے میں ناکام رہتے ہیں تو اے آئی ایم آئی ایم کنگ میکر کے طور پر ابھرے گی۔ حالانکہ ایگزٹ پول صرف علامتی ہوتے ہیں اور ان پر مکمل اعتماد کرنا درست نہیں ہے۔

پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ کنونشن میں دیگر مذاہب کے رہنماؤں کو مدعو کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اور جمہوریت میں اپنا راگ نہیں ہو تا۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں فی الحال نظم و ضبط سے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے

ہندوستانی مسلمانوں کی وفاقی تنظیم آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر جناب فیروز احمد ایڈوکیٹ نے جنوبی ریاست کیرالہ کے کوچی کے جیہووا ہال میں ایک مذہبی تقریب میں ہونے والے متعدد بم دھماکوں کی مذمت کی ہے جس کی وجہ سے ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں

مشاورت کے سکریٹری جنرل اور وفد کے سربراہ سید تحسین احمد نے اس موقع پرکہا کہ کچھ تفرقہ بازطاقتیں ملک میں انتشارپیدا کرنے کا رجحان رکھتی ہیں، ان کے منصوبے کوناکام بنانے کے لئے لوگوں کو متحد کرنا ضروری ہے۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت سمیت 10 تنظٰموں کے ذریعہ تمام ذات پات اورمسلک کے لوگوں میں بیداری پھیلانے اورملک کی تعمیر کے لئے 'تشدد سے پاک ہندوستان- 2024' کی تعمیر کا عزم کیا ہے۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے ہریانہ میں نوح تشدد اسٹیٹ اسپانسرڈ لگتا ہے، یہاں بھی منی پورجیسے حالات بنانے کی کوشش تھی، لیکن نوح کے لوگوں نے اس میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ ملک کے 75 فیصد لوگ سیکولر ہیں، اس لئے ہمیں ڈرنے اورگھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔