Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav

مغربی بنگال کی سیاست ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے اور اس بار اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو بھی اس بحث میں کود پڑے ہیں۔ لکھنؤ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ بنگال میں ہر طرح کی سیاسی چال کے باوجود ممتا بنرجی ہی دوبارہ اقتدار میں آئیں گی۔

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور قیصرگنج پارلیمانی سیٹ سے سابق رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے سماج وادی پارٹی میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں پر بیٹے پرتیک بھوشن کا بڑا بیان آیا ہے۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پر الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی نے آبزرور کے نام پر اپنے ”ایجنٹ“ بھیجے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”ان سے کچھ ہونے والا نہیں، دیدی ہیں اور دیدی ہی رہیں گی“، جس سے ان کا اشارہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی طرف تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت آنے پر ایسے افسران کے کردار کی مکمل جانچ ہوگی اور اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

لکھنؤ کی میئر سشما کھڑکوال کے بیان پر سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اکھلیش نے اسے اپنی مرحومہ والدہ کی توہین قرار دیتے ہوئے اخلاقیات کا درس دیا اور ایک جذباتی پوسٹ بھی شیئر کی۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ان مظاہروں میں شامل نوجوانوں کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے لوگوں کو اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ وہ معمولی رقم کے لیے بھی ایسے کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ضلع ہمیرپور کی خواتین اسمارٹ میٹر کے خلاف احتجاج کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ اسمارٹ میٹر کے نام پر جاری بجلی کی لوٹ کے خلاف عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اب سمجھ آ چکی ہے کہ بلا وجہ زیادہ میٹر ریڈنگ اور بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں کے پیچھے بدعنوانی کارفرما ہے۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کی توہین ہے اور اس کے سیاسی نتائج دور رس ہوں گے۔

لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں تین اہم بلوں پر ووٹنگ سے عین قبل ایوان کا ماحول اس وقت گرما گیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے درمیان غازی آباد کے ووٹر ڈیٹا کو لے کر شدید بحث چھڑ گئی۔ یہ بحث نہ صرف اعداد و شمار تک محدود رہی بلکہ ملک میں نئی حدبندی (ڈی لمیٹیشن) کی ضرورت پر بھی مرکوز ہو گئی۔

اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ جو پارٹی اپنے تنظیمی ڈھانچے میں خواتین کو مناسب نمائندگی نہیں دیتی، وہ خواتین کے حقوق کی بات کیسے کر سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جن 21 ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں کتنی خواتین وزرائے اعلیٰ ہیں۔