Bharat Express DD Free Dish

Akhilesh Yadav

اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ضلع ہمیرپور کی خواتین اسمارٹ میٹر کے خلاف احتجاج کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ اسمارٹ میٹر کے نام پر جاری بجلی کی لوٹ کے خلاف عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اب سمجھ آ چکی ہے کہ بلا وجہ زیادہ میٹر ریڈنگ اور بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں کے پیچھے بدعنوانی کارفرما ہے۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل کے مسترد ہونے کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) نے اپوزیشن کے خلاف جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا ہے۔ حکمراں اتحاد نے اس فیصلے کو ”ناری شکتی“ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر خواتین کے حقوق کو روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بل کے مسترد ہونے کے فوراً بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور حکمراں جماعت و اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ شروع ہو گئی۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ خواتین کی توہین ہے اور اس کے سیاسی نتائج دور رس ہوں گے۔

لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں تین اہم بلوں پر ووٹنگ سے عین قبل ایوان کا ماحول اس وقت گرما گیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے درمیان غازی آباد کے ووٹر ڈیٹا کو لے کر شدید بحث چھڑ گئی۔ یہ بحث نہ صرف اعداد و شمار تک محدود رہی بلکہ ملک میں نئی حدبندی (ڈی لمیٹیشن) کی ضرورت پر بھی مرکوز ہو گئی۔

اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ جو پارٹی اپنے تنظیمی ڈھانچے میں خواتین کو مناسب نمائندگی نہیں دیتی، وہ خواتین کے حقوق کی بات کیسے کر سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جن 21 ریاستوں میں بی جے پی کی حکومت ہے، وہاں کتنی خواتین وزرائے اعلیٰ ہیں۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بل کے ذریعے واقعی تمام طبقات کی خواتین کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر مسلم اور او بی سی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہے تو پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ خود نشستیں مختص کریں، نہ کہ علاقوں کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے۔

حکومت کی طرف سے پیش کردہ بل کے بارے میں سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے لوک سبھا میں کہا، ”ہم آئین (131 ویں ترمیم) بل، 2026، یونین ٹیریٹریز لاز (امیڈمنٹ) بل، 2026، یونین ٹیریٹریزلا (ترمیمی) بل، 2026 کی مخالفت کرتے ہیں، جس میں کوئی دوسری پارٹی نہیں ہے۔ خواتین کے ریزرویشن کی اتنی بڑی حامی ہے۔“

بنگال الیکشن سے متعلق اکھلیش یادو نے بی جے پی پربڑا حملہ بولا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ بی جے پی بنگال بری طرح سے ہار رہی ہے۔ وہاں دیدی ہیں، دیدی رہیں گی۔ یہ تبادلے نہیں، انتخابی ہیرا پھیری ہے۔ بنگال میں بی جے پی کا منہ میٹھا نہیں ہوگا۔

اتر پردیش کے دادری میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت خود کو جرائم کے خلاف سخت ظاہر کرتی ہے، مگر حقیقت میں اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بی جے پی کوئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ ڈرائی کلین شاپ کی طرح ہے، جہاں بدعنوان لوگ جاتے ہیں اور صاف ستھرے ہوکر باہر نکلتے ہیں۔

اکھلیش یادو نے طنزیہ انداز میں مزید کہا، "ڈریس کوڈ کیا نکّر پر لاگو کریں گے؟ آپ نے خود نکّر چھوڑ دی، اب آپ بھی پینٹ پہن رہے ہیں۔ اگر تمام بی جے پی رہنما پرانی نکّر پہننے کو تیار ہیں تو ہم بھی تیار ہیں۔"