Bharat Express DD Free Dish

Air India

ایئر انڈیا ایکسپریس نے پیر کو واضح کیا کہ کیرالہ کے کوچی ایئرپورٹ سے ابوظہبی جانے والی اس کی ایک پرواز میں تکنیکی خرابی کا اشارہ ملنے کے بعد حفاظتی ضوابط کے تحت اسے واپس کوچی ایئرپورٹ لایا گیا۔

ایئر انڈیا کے ترجمان نے بتایا کہ فوکیٹ-دہلی پرواز کے پائلٹ اِن کمانڈ کی جانچ میں ایک ’سائیکو ایکٹو سبسٹنس‘ یعنی نشہ آور مادہ پایا گیا۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ حفاظت، فٹنس اور ضوابط کی خلاف ورزی کے معاملے میں کمپنی کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کے تحت پائلٹ کی ملازمت فوری اثر سے ختم کردی گئی ہے۔

ایئر لائن نے احتیاطی اقدام کے طور پر دونوں پائلٹوں کو ’ڈی روسٹر‘ کر دیا ہے، یعنی انہیں فی الحال ڈیوٹی سے الگ کر دیا گیا ہے۔ حتمی ٹیسٹ کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی اس معاملے میں مزید کارروائی کی صورت حال واضح ہوسکے گی۔

پائلٹس کے نام ایئر انڈیا کے خط کے مطابق یہ اسکریننگ پروگرام 13 اگست سے نافذ ہو گیا ہے اور ایئر انڈیا گروپ کے تمام پائلٹس اس کے دائرے میں ہوں گے۔ ایئر لائن نے کہا ہے کہ برسوں سے ایئر انڈیا نے اپنے پائلٹس اور ملازمین کی پیشہ ورانہ صلاحیت، مہارت اور حفاظت کے عزم کی بنیاد پر اپنی شناخت بنائی ہے۔ ایسے میں مسافروں کا اعتماد برقرار رکھنا کمپنی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بھی مسافر یا عملے کے رکن کو سنگین چوٹ نہیں آئی۔ البتہ چند افراد کو معمولی زخم اور جھٹکے لگنے کے باعث احتیاطی طور پر طبی معائنے کے لیے ایئرپورٹ پر موجود میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ایئر انڈیا کی ایئرپورٹ ٹیم اور طبی عملے نے ان کا معائنہ اور ضروری دیکھ بھال کی۔ترجمان نے کہا کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت اور فلاح ایئر انڈیا کی اولین ترجیح ہے۔

مرکزی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اے اے آئی بی کی موجودہ رپورٹ صرف ابتدائی نتائج پر مبنی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری ہونے سے پہلے کسی بھی قسم کے قیاس آرائی پر مبنی نتیجے سے گریز کیا جائے۔

ایئر انڈیا کے مطابق یہ نظام ڈیٹا کی سالمیت، ریکارڈ کی ٹریس ایبلٹی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی مکمل پاسداری کو مزید مضبوط بنائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید تجزیاتی سہولت کی بدولت ممکنہ تکنیکی خرابیوں کا پیشگی اندازہ لگایا جا سکے گا، جس سے انجینئرنگ فیصلے زیادہ مؤثر اور بروقت ہوں گے۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ 22 جون کو دہلی سے امرتسر جانے والی پرواز کے عملے نے گو اراؤنڈ طریقۂ کار کے دوران محدود وقت کے لیے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاع دی۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق متعلقہ ضابطہ ساز اداروں کو مطلع کر دیا گیا ہے اور کمپنی نے اندرونی سطح پر بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ٹاٹا گروپ کی جانب سے ایک کروڑ روپے کی اضافی مالی امداد بھی بیشتر خاندانوں تک پہنچائی گئی ہے جبکہ حادثے کی تحقیق آخری مرحلے میں ہے۔ ایئر انڈیا ذرائع کے مطابق باقی معاملات میں زیادہ تر دستاویزات کی کمی یا خاندانی تنازعات کی وجہ سے ادائیگیاں مکمل نہیں ہو سکیں۔

ایئر پورٹ کے حکام نے نوٹ کیا کہ موسمی حالات اچانک اور غیر متوقع طور پر بگڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو ہوائی اڈے کے آپریٹر اور نہ ہی ایئر لائنز کو موسم میں اس اچانک تبدیلی کے بارے میں ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے کوئی پیشگی وارننگ موصول ہوئی۔