Bharat Express DD Free Dish

Air India

ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بھی مسافر یا عملے کے رکن کو سنگین چوٹ نہیں آئی۔ البتہ چند افراد کو معمولی زخم اور جھٹکے لگنے کے باعث احتیاطی طور پر طبی معائنے کے لیے ایئرپورٹ پر موجود میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ایئر انڈیا کی ایئرپورٹ ٹیم اور طبی عملے نے ان کا معائنہ اور ضروری دیکھ بھال کی۔ترجمان نے کہا کہ مسافروں اور عملے کی حفاظت اور فلاح ایئر انڈیا کی اولین ترجیح ہے۔

مرکزی وزیر شہری ہوا بازی رام موہن نائیڈو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اے اے آئی بی کی موجودہ رپورٹ صرف ابتدائی نتائج پر مبنی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری ہونے سے پہلے کسی بھی قسم کے قیاس آرائی پر مبنی نتیجے سے گریز کیا جائے۔

ایئر انڈیا کے مطابق یہ نظام ڈیٹا کی سالمیت، ریکارڈ کی ٹریس ایبلٹی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی مکمل پاسداری کو مزید مضبوط بنائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید تجزیاتی سہولت کی بدولت ممکنہ تکنیکی خرابیوں کا پیشگی اندازہ لگایا جا سکے گا، جس سے انجینئرنگ فیصلے زیادہ مؤثر اور بروقت ہوں گے۔

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ 22 جون کو دہلی سے امرتسر جانے والی پرواز کے عملے نے گو اراؤنڈ طریقۂ کار کے دوران محدود وقت کے لیے پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی اطلاع دی۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ اس واقعے سے متعلق متعلقہ ضابطہ ساز اداروں کو مطلع کر دیا گیا ہے اور کمپنی نے اندرونی سطح پر بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ٹاٹا گروپ کی جانب سے ایک کروڑ روپے کی اضافی مالی امداد بھی بیشتر خاندانوں تک پہنچائی گئی ہے جبکہ حادثے کی تحقیق آخری مرحلے میں ہے۔ ایئر انڈیا ذرائع کے مطابق باقی معاملات میں زیادہ تر دستاویزات کی کمی یا خاندانی تنازعات کی وجہ سے ادائیگیاں مکمل نہیں ہو سکیں۔

ایئر پورٹ کے حکام نے نوٹ کیا کہ موسمی حالات اچانک اور غیر متوقع طور پر بگڑ گئے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو ہوائی اڈے کے آپریٹر اور نہ ہی ایئر لائنز کو موسم میں اس اچانک تبدیلی کے بارے میں ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) سے کوئی پیشگی وارننگ موصول ہوئی۔

وزارت خارجہ کے مطابق قطر کا فضائی علاقہ جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے اور قطر ایئرویز پہلے ہی بھارت کے متعدد شہروں کے لیے اپنی پروازیں چلا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات بہتر ہونے کے ساتھ دیگر ایئرلائنز بھی مرحلہ وار اپنی خدمات بحال کر رہی ہیں۔

ٹاٹا سنز کے چیئرمین این چندر شیکھرن نے جمعہ کو ایئر انڈیا کے ملازمین سے کہا کہ ایئرلائن اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے اور تمام ملازمین کو عملدرآمد اور لاگت کے نظم و ضبط پر توجہ دینی چاہیے۔

ایئر انڈیا نے اس واقعے سے مسافروں کو ہونے والی پریشانی پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ متاثرہ مسافروں کو جلد از جلد لندن پہنچانے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

خاص طور پر ایران اور عراق کی فضائی حدود سے بچنے کی وجہ سے ایئر انڈیا کی کئی طویل فاصلے کی پروازوں کا وقت کافی بڑھ گیا ہے، جس کے باعث اس ہفتے ایئر لائن کو چند پروازیں منسوخ بھی کرنا پڑیں۔ رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا کی یہ تجویز فی الحال ڈی جی سی اے کے زیر غور ہے اور ریگولیٹر اس کا جائزہ لے رہا ہے۔