Bharat Express DD Free Dish

Air India

ایوی ایشن ریگولیٹر کی طرف سے جاری کردہ ایک باضابطہ ہدایت کے مطابق، ریگولیٹر نے ان تینوں اہلکاروں کو متعدد خلاف ورزیوں کے لیے براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا۔

یہ فیصلہ ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی 171 کے حالیہ حادثے کے بعد لیا گیا ہے، جس میں 241 مسافروں اور عملے کے ارکان کی المناک موت ہو گئی تھی۔

ڈی جی سی اے کے اعداد و شمار کے مطابق، انڈیگو مسافروں کی مارکیٹ شیئر پر مبنی ملک کی سب سے بڑی ایئر لائن ہے۔ اپریل میں انڈیگو کا مسافر مارکیٹ شیئر 64.1 فیصد تھا۔ وہیں، ایئر انڈیا گروپ کی مارکیٹ شیئر دوسرے نمبر پر 27.2 فیصد تھی۔ اسپائس جیٹ کا مارکیٹ شیئر 2.6 فیصد تھا۔

گجرات کے احمدآباد طیارہ حادثہ کے تقریباً 5 روز بعد پھر سے لندن کے لئے ایئرانڈیا کی فلائٹ پرواز کرنے والی تھی۔ پرواز سے پہلے فلائٹ کا نمبر تک بدل دیا۔ تاہم صبح سے ہی آرہی پریشانی کے بعد فلائٹ AI-159 کو منسوخ کردیا گیا۔

ایئر انڈیا نے ایک بیان میں کہا کہ 25 لاکھ کی یہ امداد، اس 1 لروڑ روپے کے معاوضے کے علاوہ ہے، جس کا اعلان ٹاٹا گروپ نے پہلے کیا ہے۔

AI 171 اس فلائٹ کا نمبر تھا، جو کہ جمعہ کے روز احمد آباد ہوائی اڈے سے ٹیک آف کے کچھ ہی منٹ بعد کریش ہو گئی۔

انڈیگو نے تمام مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہوائی اڈے کی طرف جانے سے پہلے کمپنی کی ویب سائٹ یا موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے اپنی فلائٹ کا اسٹیٹس چیک کر لیں۔ ایئر لائن نے یقین دلایا کہ اس کی کسٹمر سروس ٹیم ان تاخیر سے متاثرہ مسافروں کی فعال طور پر مدد کر رہی ہے۔

تھائی لینڈ ایئرپورٹ کے افسران نے بتایا کہ پھوکیت سے ہندوستان کی راجدھانی نئی دہلی جا رہے ایئر انڈیا کے طیارہ کو جمعہ کے روز بم سے اڑانے کی دھمکی ملی۔ اس کے بعد طیارہ کی ایمرجنسی لینڈنگ کرائی گئی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج، آڈیٹ کے بیانات، فلائٹ ریکارڈ اور شفٹ رجسٹر سے پتہ چلتا ہے کہ ایئر انڈیا نے یہ رپورٹیں ڈی جی سی اے کے دستاویزات طلب کرنے کے بعد جعلی طور پر بنائی تھیں۔

آکاش وتسا نامی ایک مسافر نے کئی تصاویر اور ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’احمدآباد سے اڑان بھرنے سے 2 گھنٹے پہلے میں اسی فلائٹ میں تھا۔‘‘