Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

دہلی-کانپور ہائی وے پر گاؤں چکاوٹی کے پاس فیروز آباد سے ملزم کو پیشی کے لیے مظفرنگر لے جا رہی پولیس کی گاڑی کھڑے کینٹر میں سیدھی جا کر گھس گئی۔ حادثے میں ملزم کی بھی موت ہو گئی۔

آپریشن سندورکوانجام دینے کے بعد حکومت نے آل پارٹی میٹنگ بلائی ہے۔ اس میٹنگ میں حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کواس آپریشن کے بارے میں جانکاری دی۔

مرکز کے زیر انتظام وادی کشمیر کو بھی الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر وادی کے تمام اضلاع میں کنٹرول روم نمبر جاری کردیئے گئے ہیں۔ یہ نمبر کسی بھی قسم کی پریشانی کی صورت میں لوگوں کی مدد کے لئے دیئے گئے ہیں۔

سری گنگا نگر کے ضلع کلکٹر نے تمام محکموں کے افسران کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے انہیں ہیڈ کوارٹر نہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری اسکولوں، نجی کالجوں، سرکاری کالجوں، مدارس اور آنگن واڑیوں میں اگلے احکامات تک تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

’آپریشن سندور‘ کے بعد پاکستان کی بلااشتعال فائرنگ کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ملک کی ایئر ڈیفنس یونٹس فعال رکھی گئی ہے اور جموں کشمیر و دیگر شہروں میں اسکول آج بھی بند ہیں

اس سے قبل 6 مئی کو بجنور کے نور پور پولیس اسٹیشن کے تحت گوہار کراسنگ پر ایک تیز رفتار ٹرک نے ٹریکٹر ٹرالی کو ٹکر مار دی تھی۔ اس حادثے میں کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ اس سے پہلے 3 مئی کو متھرا میں ایک حادثے میں چار لوگوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی تھی۔

ہندوستانی فوج نے منگل کی رات 1.05 سے 1.30 کے درمیان دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں پر 24 میزائلوں سے حملہ کیا، جس میں مریدکے میں لشکر طیبہ کا ہیڈکوارٹر اور بہاولپور میں دہشت گردوں کے اہم ٹھکانے شامل تھے۔ یہ وہ مقامات ہیں جو دہشت گردی کی سرگرمیوں کا مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ اس حملے کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا۔

پروفیسر مظہرآصف نے سائیکل چلانے کی عادت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے فٹنیس کے ساتھ ساتھ پائے دار عمل کو مدد اور تعاون کے لیے حاضرین کو ہمت دلائی۔ شرکا نے اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے سائیکل سواری کے پروگرام کے تئیں اپنے عہد کے اظہا رکے ساتھ روز مرہ کی زندگی میں سائیکل سواری کو باقاعدہ عادت میں شامل کرنے کا عہد کیا۔

رات میں ایک بج کر 5 منٹ سے لے کر1:30 بجے کے درمیان ہماری تینوں جانباز افواج نےدہشت گردوں کو مٹی میں ملا دیا۔ ہندوستانی فوج نے جس مضبوطی کے ساتھ پاکستان کے خلاف کارروائی کی ہے، وہ برسوں تک اسے یاد رکھے گا۔ ہندوستانی فوج کی اس مہم کو ’’آپریشن سندور‘‘ کا نام دیا گیا۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ ہم اس موقع پراس بات پربھی زور دینا چاہتے ہیں کہ اس نازک وقت میں ملک کے تمام عوام کو متحد ہوکر اس چیلنج کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ ملک کی سلامتی کے سنگین معاملے کوکسی بھی قسم کی تفریق یا فرقہ وارانہ تناویا کشیدگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کرنا کسی صورت ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔