Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

بل کو منظوری کے بعد اب پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جہاں اس پر بحث کے بعد اسے باقاعدہ قانون کا درجہ دیا جائے گا۔ یہ قانون پنجاب میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جو مذہبی رواداری اور احترام کی فضا کو فروغ دے گا۔

ماہرین کے مطابق، بہار میں جاری جرائم کی لہر آئندہ ریاستی انتخابات میں بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ بہار میں سیاسی درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے اور راہل گاندھی کا یہ سخت لب و لہجہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کانگریس اور انڈیا بلاک بہار میں ایک جارحانہ مہم چلانے کے موڈ میں ہیں۔

فلم پروڈیوسر کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ گورو بھاٹیا کی درخواست پر جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی نے اس درخواست پر سماعت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

سماجوادی پارٹی کے لیڈراعظم خان کو سپریم کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے ان کی طرف سے داخل ٹرانسفرعرضی کوخارج کردیا ہے۔ اعظم خان نے اپنی عرضی میں اترپردیش میں چل رہے سبھی مقدمات کا ٹرائل ریاست سے باہر کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔

آل انڈیا مہیلا کانگریس کمیٹی کی صدر الکا لانبا نے کہا کہ اوڈیشہ میں خواتین کے خلاف جرائم اس لئے بڑھ رہے ہیں کیونکہ بی جے پی-آرایس ایس اور اے بی وی پی کے لوگ جرائم پیشوں کوتحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

طالبہ کے مطابق، کالج انتظامیہ اورپولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کے 11 دن بعد اس نے کالج احاطے میں ہی خود کوآگ لگا لی۔ طالبہ کوایمس بھونیشورمیں داخل کرایا گیا ہے، جہاں وہ 90 فیصد سے زیادہ جل چکی ہے اورزندگی کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔

دہلی میٹرو انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس سروے سے انہیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ مسافر میٹرو خدمات کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور کن پہلوؤں میں بہتری کی ضرورت ہے۔

پرینکا گاندھی نے یو پی اے حکومت کے دوران بنائے گئے ’تعلیم کا حق قانون‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت ہر گاؤں میں اسکول کا انتظام کیا گیا تاکہ غریب بچوں کو تعلیم سے جوڑا جا سکے۔ لیکن بی جے پی حکومت ان حقوق کو واپس لے رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے ادھوٹھاکرے گروپ کی جانب سے'دھنش-بان' انتخابی نشان کولے کردائردرخواست کی سماعت اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ یہ عرضی ایکناتھ شندے گروپ کوانتخابی نشان الاٹ کئے جانے کے خلاف ہے۔ ادھودھڑے نے بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر قبل ازوقت تصفیہ کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ شندے گروپ نے اس کی مخالفت کی تھی۔ عدالت نے کہا ہے کہ اہم کیس کا حتمی فیصلہ اگست میں دیا جائے گا۔

’’پولیس نے ہمارے دروازے کے باہر بنکر کھڑا کر دیا، ہمیں گھروں میں بند رکھا گیا۔ میں نے اس بار بغیر اطلاع کے نکلنے کا فیصلہ کیا اور جب پہنچا تو پھر ہمیں روکنے کی کوشش کی گئی۔‘‘ انہوں نے کہا: ’’یہ ملک آزاد ہے، ہم کسی کے غلام نہیں۔ یہ قبریں یہیں رہیں گی، اور ہم جب چاہیں فاتحہ کے لیے آئیں گے۔‘‘