Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

اوما بھارتی نے اپنے بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امت شاہ اور پارٹی کارکنان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بار بی جے پی کی جیت طے تھی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ  ممتا بنرجی کی پارٹی کی ایک رکن کا گانا ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ان اموات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں ریاستی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مہلوکین کے لواحقین کو چار چار لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔

اڈانی الیکٹرسٹی ممبئی نے تین سال بعد گورائی بیچ کو دوبارہ روشن کر دیا، جس سے ساحل پر حفاظت اور آمد و رفت میں بہتری آئی ہے۔ یہ کام ساحلی علاقے کے مطابق خصوصی لائٹنگ سلوشن کے ذریعے انجام دیا گیا۔

مغربی بنگال، آسام سمیت ملک کی چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ چار مئی کی یہ شام ڈھل رہی ہے، لیکن بنگال کی سرزمین پر ایک نئی صبح کا آغاز ہو چکا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم مودی نے گنگا کے حوالے سے ایک علامتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس بہار انتخابات کے نتائج کے موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ گنگا بہار سے آگے بڑھتے ہوئے گنگاساگر تک جاتی ہے اور آج بنگال کی جیت کے بعد گنگوتری سے لے کر گنگاساگر تک کمل ہی کمل کھل چکا ہے۔

جنوبی ہند کی سیاست میں ایک غیر متوقع مگر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیرلم اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج میں آر جے ڈی نے پہلی بار اپنی موجودگی درج کرا دی ہے۔ کُوتھوپرمبا اسمبلی حلقے سے آر جے ڈی کے امیدوار پی کے پروین نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی جماعت کے لیے تاریخ رقم کی بلکہ ریاست کی سیاست میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغامات میں کہا کہ یہ کامیابی اچانک حاصل نہیں ہوئی بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی مسلسل محنت، تنظیمی مضبوطی اور زمینی سطح پر کارکنان کی جدوجہد شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان نے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری اور عوام تک ترقی اور بہتر حکمرانی کا پیغام پہنچایا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی اور مستقل محنت کا نتیجہ ہیں۔ بی جے پی نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی تنظیم کو مضبوط کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی مؤثر انداز میں اٹھایا، جس کا فائدہ اسے اب ملتا دکھائی دے رہا ہے۔

ان نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے عوام کا شکریہ ادا کیا اور اس کامیابی کو ترقی، خواتین کی طاقت اور ”وکست آسام“ کے وژن کے حق میں دیا گیا مینڈیٹ قرار دیا۔

بورڈ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس سال کل 81,417 طلبہ و طالبات نے امتحان میں شرکت کی، جن میں سے 74,637 کامیاب قرار پائے۔ کامیابی کی اس بلند شرح نے ریاست کے تعلیمی معیار اور طلبہ کی محنت کو اجاگر کیا ہے۔ نتائج کے تجزیے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس سال بھی لڑکیوں نے لڑکوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔