Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کی ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور مختلف حلقوں سے موصول ہونے والے ابتدائی رجحانات نے سیاسی فضا کو گرم کر دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی دو اہم رہنما مہوا موئترا اور سیانی گھوش نے انتخابی مہم میں بھرپور کردار ادا کیا، تاہم مجموعی نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اکثریت کی جانب بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، جس سے مقابلہ نہایت دلچسپ ہو گیا ہے۔

اے پی سی آر تلنگانہ لیگل ٹیم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ تمام 20 افراد جلد از جلد اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکیں۔ اس مقصد کے لیے تنظیم نے رہائی کے لیے درکار مجموعی رقم کا انتظام بھی خود ہی کیا۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام ان خاندانوں کی مالی و ذہنی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا، جو مسلسل پولیس نگرانی، پوچھ گچھ اور دباؤ کے باعث شدید پریشانی کا شکار تھے۔

ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں مجموعی طور پر 461 امیدوار میدان میں اتارے تھے، لیکن رجحانات کے مطابق پارٹی صرف تقریباً 91 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جو کہ مجموعی نشستوں کا قریب 20 فیصد بنتا ہے۔ اس صورتحال نے سیاسی مبصرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا کانگریس بتدریج اپنی قومی حیثیت کھو رہی ہے۔

ماضی میں مغربی بنگال کے انتخابات اکثر تشدد، بوتھ کیپچرنگ اور ’چھپا ووٹ‘ جیسے الزامات کی وجہ سے خبروں میں رہتے تھے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات اور 2023 کے پنچایت انتخابات کے بعد سامنے آنے والی پرتشدد تصاویر نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا تھا کہ ریاست میں آزادانہ ووٹنگ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم 2026 کے انتخابات میں صورتحال مختلف نظر آئی، جہاں مرکزی فورسز کی موجودگی نے انتخابی ماحول کو نسبتاً پُرامن بنانے میں کردار ادا کیا۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنی مرکزی قیادت کے ساتھ مل کر غیر معمولی انتخابی مہم چلائی، جس نے ریاست کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی۔ پارٹی نے بڑے پیمانے پر ریلیوں، روڈ شوز اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ووٹروں تک رسائی حاصل کی اور انتخابی منظرنامے کو یکسر بدلنے کی کوشش کی۔

مسلم لیگ نے مجموعی طور پر 27 نشستوں پر انتخابات میں حصہ لیا تھا، جن میں سے 22 نشستوں پر اس کی جیت یقینی قرار دی جا رہی ہے جبکہ کئی حلقوں میں پارٹی امیدوار بڑی برتری کے ساتھ آگے ہیں۔ پارٹی کا اسٹرائیک ریٹ تقریباً 85 فیصد رہا ہے، جو اس کی انتخابی حکمت عملی اور عوامی حمایت کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

مہاراشٹر کے بارامتی اسمبلی سیٹ کے ضمنی الیکشن میں نائب وزیراعلیٰ سنیترا پوار نے زبردست فرق سے جیت حاصل کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اجیت پوارکے اچانک انتقال کے بعد ان کے خاندان کے لیے یہ پہلا انتخابی مقابلہ تھا۔

مغربی بنگال میں بی جے پی کی برتری نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ChatGPT، Gemini اور Grok جیسے اے آئی ماڈلز بھی اس سیاسی تبدیلی کو مختلف زاویوں سے سمجھا رہے ہیں۔ کہیں اینٹی انکمبنسی کو وجہ بتایا جا رہا ہے تو کہیں بدعنوانی اور بے روزگاری کو۔ آخر اس بڑے سیاسی شفٹ کی اصل وجہ کیا ہے؟

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے ابتدائی رجحانات نے ریاست کی سیاست میں بڑا اشارہ دیا ہے۔ ابتدائی نتائج میں جو تصویر سامنے آئی ہے، اس میں بی جے پی بھاری اکثریت کی طرف بڑھتی نظر آ رہی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ٹی ایم سی کے لیے یہ رجحانات تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

مغربی بنگال میں الیکشن کے نتائج کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ اس دوران ٹی ایم سی نے الیکشن کمیشن پر بڑا الزام لگایا ہے۔ ممتا بنرجی خود اور ان کی پارٹی نے الیکشن کمیشن پر جان بوجھ کر جانکاری نہ دینے کا الزام لگایا ہے۔