Bharat Express DD Free Dish

علاقائی

اطلاعات کے مطابق 7 یا 8 مئی کو پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں ایک شاندار حلف برداری تقریب منعقد ہوگی، جس میں وزیراعظم نریندر مودی سمیت قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے کئی سرکردہ رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔ 

اعداد و شمار کے مطابق آل انڈیا این آر کانگریس 9 سیٹوں پر آگے ہے، جبکہ اس کی اتحادی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی 2 سیٹوں پر برتری بنائے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ اے آئی اے ڈی ایم کے ایک سیٹ پر آگے ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد کو محدود کامیابی ملتی نظر آرہی ہے۔ انڈین نیشنل کانگریس، ڈی ایم کے اور اے ڈی ایم کے ایک-ایک سیٹ پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہے۔

پانیہاٹی نشست پر مقابلہ انتہائی دلچسپ ہو گیا ہے۔ بی جے پی کی رتنا دیب ناتھ ابتدائی رجحانات میں برتری حاصل کیے ہوئے ہیں، تاہم ٹی ایم سی امیدوار تیرتھاکر سخت مقابلہ دے رہے ہیں۔

بنگلہ دیشی دراندازی اور آبادیاتی تبدیلی جیسے حساس مسائل کو اٹھاتے ہوئے ہمینت بسوا سرما نے خود کو مقامی شناخت کے محافظ کے طور پر پیش کیا۔ مدارس کی بندش، زمین سے متعلق سخت پالیسیوں اور ثقافتی تحفظ کے بیانیے نے ہندو اور مقامی آسامیہ ووٹروں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا، جس سے زبردست پولرائزیشن دیکھنے کو ملی۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا اور غیر مصدقہ خبروں کے اس دور میں افواہیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں، جو بعض اوقات خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔

مغربی بنگال کے انتخابی ابتدائی رجحانات میں بڑا سیاسی تبدیلی کا منظر سامنے آ رہا ہے۔ بی جے پی اکثریت کے اعداد و شمار سے آگے بڑھت برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ ٹی ایم سی دوسرے نمبر پر ہے۔ بھوانی پور سیٹ پر ممتا بنرجی پیچھے چل رہی ہیں۔

ابتدائی رجحانات کے بعد ڈی ایم کے کے حامی مایوسی کے عالم میں پارٹی دفتر سے واپس لوٹتے نظر آئے، جبکہ ٹی وی کے کی بڑھتی ہوئی برتری نے ریاست کی سیاست میں ایک نئے دور کی نشاندہی کر دی ہے۔ تاہم حتمی نتائج آنے تک صورتحال میں تبدیلی کا امکان برقرار ہے۔

تمل ناڈو اسمبلی الیکشن میں اس بار تھلاپتی وجے کی پارٹی کی موجودگی نے سبھی سیاسی حالات کو بدل کررکھ دیا ہے۔ پہلے ہی الیکشن میں ان کی پارٹی زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہے۔

کیرالہ سمیت مغربی بنگال، تمل ناڈو، آسام اور پڈوچیری کے 823 حلقوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ گنتی کا عمل پوسٹل بیلٹ سے شروع ہو کر ای وی ایم ووٹوں تک جاری ہے اور نتائج مرحلہ وار جاری کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے درمیان نتائج کا سلسلہ جاری ہے اور دن بھر میں سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے قبل آج وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے عوام کو ایک پیغام دیا ہے۔ انہوں نے سنسکرت کے ایک شلوک کے ذریعے بتایا کہ کس طرح ہر چیلنج پر قابو پایا جا سکتا ہے۔