Bharat Express DD Free Dish

سیاست

یکم اپریل کو اویسی نے مختار انصاری کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے یہ جانکاری سوشل میڈیا ایکس پر دی۔جس میں  انہوں نے لکھا'غازی پور میں مرحوم مختار انصاری کے گھر گئے اور ان کے اہل خانہ کو تسلی دی۔ مشکل کی اس گھڑی میں ہم ان کے اہل خانہ، حامیوں اور چاہنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

جنوبی ہند کی پانچ ریاستوں میں کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو ایسی ریاستیں ہیں جہاں بی جے پی کی حمایت نہیں ہے۔ پچھلی بار بی جے پی ان تین ریاستوں میں اپنا کھاتہ نہیں کھول سکی تھی۔ کرناٹک جنوبی ہندوستان کی واحد ریاست ہے جہاں بی جے پی ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھری ہے۔ تاہم اس بار یہاں بھی حالات بدل گئے ہیں۔

ممتا بنرجی نے جلپائی گوڑی میں کہا، "چھوٹے چائے کے کاشتکار پانچ بیگھہ تک کی زمین پر  ہری   پتیاں پیدا کرتے ہیں اور انہیں فیکٹریوں کو فروخت کرتے ہیں۔ تقریباً 10 لاکھ لوگ اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔

گورو ولبھ   نے کہا، "میں سناتن مخالف نعرے نہیں لگا سکتا۔" نہ ہی میں ہر صبح و شام ویلتھ کریٹر(دولت حاصل کرنے والا) کو گالی  دے سکتا ہوں۔

اس سے پہلے بھی ہائی کورٹ نے کیجریوال کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ اس دوران عدالت نے کہا تھا کہ یہ معاملہ ایگزیکٹو سے متعلق ہے۔

بی ایس پی نے اپنی لسٹ میں متھرا سیٹ کے لیے اپنے امیدوار کو تبدیل کیا ہے، کمل کانت اپمنیو کا ٹکٹ منسوخ کرنے کے بعد اب بی ایس پی نے سریش سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔

اس سے پہلے یہ بحث تھی کہ کانگریس متھرا سے وجیندر کو بی جے پی امیدوار ہیما مالنی کے خلاف میدان میں اتار سکتی ہے۔

روڈ شو میں کانگریس کے ہزاروں کارکنوں اور حامیوں نے شرکت کی۔ پارٹی نے کہا کہ روڈ شو سول سٹیشن کے قریب دوپہر کے قریب ختم ہوا، جس کے بعد راہل گاندھی نے اپنے کاغذات نامزدگی ضلع کلکٹر کو جمع کرائے ۔ بتادیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے راہل گاندھی کے خلاف کے کے سریندرن کو میدان میں اتارا  ہے۔

پولیس افسر نے بتایا کہ یہ ویڈیو یکم اپریل کی ہے اور جس شخص کو پیٹا جا رہا ہے وہ فرید آباد کے سرور پور کا رہنے والا ہے۔ شمو نامی شخص پر الزام تھا کہ اس نے اپنے محلے کی دو لڑکیوں کو چاکلیٹ دے کر اپنے گھر بلایا اور مقامی لوگوں کو شک تھا کہ وہ ان کا جنسی استحصال کرنا چاہتا ہے۔

راجیہ سبھا ایم پی نے کہا، "اپوزیشن کے خلاف بی جے پی کی سیاسی گفتگو: مبینہ بدعنوانی پھر بھی بدعنوانوں کو گلے لگاتی ہے۔ 2014 سے بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے 25 اپوزیشن لیڈر بی جے پی میں شامل ہوئے اور 23 کو راحت ملی۔