نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے اتوار کو ایوان قانون ساز میں خواتین کے ریزرویشن کے معاملے پر مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کے درمیان جاری سیاسی تنازع میں راہل گاندھی کی حمایت کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے ریزرویشن کو مردم شماری اور حلقہ بندی کی مشق سے الگ کیا جائے۔ ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر دونوں رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ شروع ہوئی تھی۔ کرن رجیجو نے کہا تھا کہ خواتین کے ریزرویشن سے متعلق قانون 2034 کے عام انتخابات سے قبل نافذ نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کا تعلق 2026 کے بعد ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حلقہ بندی سے ہے۔ اس کے جواب میں راہل گاندھی نے کہا تھا کہ یہ قانون تین سال قبل متفقہ طور پر منظور کیا جا چکا ہے اور اسے ’’بغیر کسی شرط‘‘ کے نافذ کیا جانا چاہیے۔
چدمبرم نے رجیجو کو قرار دیا غلط
کانگریس کے موقف کو دہراتے ہوئے پی چدمبرم نے خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی کو جوڑنے پر بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت پر ’’پوشیدہ ایجنڈے‘‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’مسٹر کرن رجیجو غلط ہیں۔ لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن کی گنجائش آئین کے 106ویں ترمیمی قانون، 2023 کے تحت پہلے ہی موجود ہے، جیسا کہ مسٹر راہل گاندھی نے نشاندہی کی ہے۔ بی جے پی حکومت نے اسے غیر ضروری اور بدنیتی کے ساتھ مردم شماری اور حلقہ بندی سے جوڑ دیا۔‘‘ چدمبرم نے مزید کہا ’’ہم نے 2023 میں ہی اس جانب توجہ دلائی تھی، لیکن حکومت اپنے پوشیدہ ایجنڈے کی وجہ سے بضد رہی۔ اس تعلق کو ختم کر دیا جائے تو خواتین کا ریزرویشن فوری طور پر نافذ کیا جا سکتا ہے اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے کافی پہلے بھی اسے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ کرن رجیجو بالکل غلط ہیں۔‘‘
ناری شکتی وندن ادھینیم کیا ہے؟
ناری شکتی وندن ادھینیم، 2023 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے منظور کیا تھا، تاہم اس کے نفاذ کی سمت پیش رفت نہیں ہو سکی۔ آئینی ترمیمی بل 17 اپریل کو لوک سبھا میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہ کر پانے کے باعث منظور نہیں ہو سکا۔ اس آئینی ترمیمی بل میں قانون ساز اداروں اور لوک سبھا میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ حلقہ بندی کی تجویز بھی شامل تھی۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب کرن رجیجو نے خواتین کے اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق راہل گاندھی کے بیان کے بعد کانگریس سے خواتین کے ریزرویشن بل کی غیر مشروط حمایت کرنے کا مطالبہ کیا۔ رجیجو نے ایکس پر لکھا تھا ’’ایسا لگتا ہے کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے یہ ایک مثبت پیغام ہے۔ خواتین کے بارے میں شری راہل گاندھی جی کے رویے میں واضح تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ اب مجھے امید ہے کہ کانگریس پارٹی خواتین کے ریزرویشن بل کی غیر مشروط حمایت کرے گی۔‘‘
اپوزیشن حلقہ بندی سے ریزرویشن الگ کرنے کے حق میں
کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے خواتین کے ریزرویشن بل کی حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے حلقہ بندی کی مشق کی مخالفت کی ہے۔ اپوزیشن لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے اور خواتین کے ریزرویشن کو حلقہ بندی سے الگ کرنے پر زور دے رہی ہے۔ راہل گاندھی نے بھی مرکز سے سوال کیا تھا کہ خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ کو لوک سبھا کی حلقہ بندی سے کیوں جوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے 2023 کے قانون کو کسی بھی شرط کے بغیر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔
رجیجو نے 2034 سے پہلے نفاذ پر تاخیر کا خدشہ ظاہر کیا
کرن رجیجو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2027 کی مردم شماری کی بنیاد پر ہونے والی حلقہ بندی خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے ایکس پر کہا کہ 2026 کے بعد مردم شماری کے اعداد و شمار جاری کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم ذات پات پر مبنی مردم شماری کی وجہ سے اس میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس صورت میں خواتین کے ریزرویشن کا نفاذ کم از کم 2034 کے عام انتخابات سے پہلے ممکن نہیں ہوگا۔ رجیجو نے مزید کہا کہ اگر 2029 کے عام انتخابات میں خواتین کے ریزرویشن کو نافذ کرنا ہے تو تازہ ترین دستیاب مردم شماری کے اعداد و شمار کی بنیاد پر حلقہ بندی کا عمل جلد از جلد شروع کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس نفاذ کا طریقہ کار 2026 کے حلقہ بندی بل میں تجویز کیا گیا تھا، جسے آئینی ترمیمی تجاویز کے ساتھ لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا، تاہم آئین کا 131واں ترمیمی بل، 2026 مسترد ہو چکا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


