Bharat Express DD Free Dish

Delimitation

کانگریس کے موقف کو دہراتے ہوئے پی چدمبرم نے خواتین کے ریزرویشن اور حلقہ بندی کو جوڑنے پر بی جے پی کی زیرقیادت مرکزی حکومت پر ’’پوشیدہ ایجنڈے‘‘ کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ’’مسٹر کرن رجیجو غلط ہیں۔ لوک سبھا میں خواتین کے ریزرویشن کی گنجائش آئین کے 106ویں ترمیمی قانون، 2023 کے تحت پہلے ہی موجود ہے، جیسا کہ مسٹر راہل گاندھی نے نشاندہی کی ہے۔ بی جے پی حکومت نے اسے غیر ضروری اور بدنیتی کے ساتھ مردم شماری اور حلقہ بندی سے جوڑ دیا۔‘‘

میٹنگ میں شامل نہ ہونے والے اراکین پارلیمنٹ کا الزام ہے کہ وجے حکومت کاویری جل تنازعہ جیسے اہم موضوع سے لوگوں کی توجہ بھٹکانے کے لئے یہ سب کر رہی ہے۔ میٹنگ میں ڈی ایم کے کے 30، اے آئی اے ڈی ایم کے کے 4، پی ایم کے، ایم این ایم اورڈی ایم ڈی کے کے ایک ایک رکن نے شرکت نہیں کی۔

کانگریس کے سینئر لیڈر پی۔ چدمبرم نے دعویٰ کیا ہے کہ بی جے پی حد بندی (Delimitation) سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے این سی پی (ایس پی) اور ڈی ایم کے کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے نئی دہلی میں کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی سے ملاقات کی۔ انہوں نے جنوبی اور شمال مشرقی ریاستوں کو ’بے اختیار‘ کرنے والے مرکز کے مبینہ غیر جمہوری حد بندی ماڈل کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنے پر پرینکا گاندھی کی قیادت کی تعریف کی۔

اسٹالن نے ایک سرکاری تقریب میں کہا کہ پی ایم مودی کو یہ بھی یقینی دلانا چاہیے کہ تمل ناڈو کے حقوق کو سلب نہ کرنے کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کی جائے گی۔

مرکز کے ذریعہ پارلیمانی نشستوں کی مجوزہ حد بندی پر تمل ناڈو کی حکمران ڈی ایم کے کی میزبانی میں کئی ریاستوں کی پہلی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی میٹنگ میں وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے کہا کہ ہم اس کے خلاف قانونی لڑائی بھی لڑیں گے۔

سٹالن نے کہا کہ حد بندی وفاقیت پر ایک صریح حملہ ہے جو ان ریاستوں کو سزا دیتا ہے جو پارلیمنٹ میں ہماری جائز آواز کو چھین کر آبادی کے کنٹرول کو یقینی بناتے ہیں۔ہم اس  ناانصافی کو نہیں ہونے دیں گے! اگلے سال تمل ناڈو میں اسمبلی انتخابات ہیں۔

حال ہی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ حد بندی کے عمل سے تمل ناڈو سمیت جنوبی ریاستوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے اسٹالن پر اس معاملے پر غلط معلومات کی مہم چلانے کا الزام لگایا۔

اسٹالن نے ایک بار پھر لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات کو بھلا کر تمل ناڈو کے مفاد میں متحد ہو جائیں اور حد بندی کے عمل کے خلاف ایک آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے حقوق کو بچانے اور دوبارہ حاصل کرنے کے لیے عوام کا تعاون انتہائی ضروری ہے۔