مودی حکومت کی ناکامیوں کا اثرات اب عام لوگوں کی جیبوں پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ مہنگائی بھی اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ مہنگائی سے متعلق جاری ہونے والے تازہ اعداد و شمار نے عوام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ملک میں خوردہ مہنگائی کی شرح مئی کے مہینے میں بڑھ کر 3.93 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ اپریل میں یہ 3.48 فیصد تھی۔ مئی میں مہنگائی میں آنے والا یہ اضافہ گزشتہ پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں خوردہ مہنگائی کی شرح 2.74 فیصد تھی۔ فروری میں شروع ہونے والے امریکہ-ایران تنازع نے مہنگائی میں اضافے کو مزید ہوا دی، جس کے نتیجے میں یہ شرح بڑھ کر 3.93 فیصد تک جا پہنچی۔ صرف ایک ماہ کے دوران 0.75 فیصد اضافے نے عوامی اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
اشیائے خور و نوش مہنگی ہو گئیں
مئی میں مہنگائی میں آنے والے اس اضافے نے گزشتہ 16 ماہ کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اس سے قبل تقریباً ڈیڑھ سال پہلے ایک ہی ماہ میں اتنی تیزی سے مہنگائی بڑھی تھی۔
مہنگائی کے باعث کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اپریل میں غذائی اشیاء کی مہنگائی کی شرح 4.2 فیصد تھی، جو مئی میں بڑھ کر 4.78 فیصد ہو گئی۔
اس کا اثر شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں زیادہ دیکھا گیا۔ دیہی علاقوں میں غذائی مہنگائی کی شرح 4.85 فیصد رہی، جبکہ شہری علاقوں میں یہ 4.66 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ٹرانسپورٹ کے اخراجات بھی بڑھ گئے
کچھ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور حکومت کی ناقص پالیسوں نے بھارت میں مہنگائی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکہ-ایران تنازع کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی چین متاثر ہونے سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا۔مال برداری سے لے کر ترسیل تک لاگت بڑھنے کے سبب آپریشنل اخراجات میں 3.06 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ٹرانسپورٹ خدمات 7.63 فیصد مہنگی ہو گئیں۔
باہر کا کھانا بھی مہنگا
آن لائن فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارمز کے ذریعے کھانا منگوانا بھی اب پہلے سے زیادہ مہنگا ہو گیا ہے۔ فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 4.55 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ریستورانوں میں کھانے کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
قرض کی قسطوں پر بھی پڑ سکتا ہے اثر
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں تو شرحِ سود میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ہوم لون اور دیگر قرضوں کی ماہانہ اقساط (EMI) ادا کرنا مزید مہنگا پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

