نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو ملک کی مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کریں گے۔ یہ اہم میٹنگ شام 6.30 بجے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد ہوگی، جس میں موجودہ حالات، ممکنہ اثرات اور ریاستوں کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں انتخابی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ شامل نہیں ہوں گے کیونکہ وہاں ضابطہ اخلاق نافذ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس اجلاس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے تناظر میں ملک کی داخلی تیاریوں کو مضبوط بنانا اور مرکز و ریاستوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا ہے۔ وزیر اعظم مودی اس دوران ریاستی حکومتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات، ہنگامی منصوبوں اور ضروری اشیاء کی دستیابی سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کریں گے۔ حکام کے مطابق انتخابی ریاستوں کے چیف سیکریٹریز کے لیے ایک الگ اجلاس کابینہ سیکریٹریٹ کے ذریعے منعقد کیا جائے گا تاکہ انتظامی سطح پر ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔
مشرق وسطیٰ کے بحران کے پیش نظر وزیر اعظم مودی مسلسل سرگرم ہیں اور خطے کے مختلف ممالک کے لیڈروں سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے خطاب کرتے ہوئے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ مغربی ایشیا کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں اور اس بحران کو تین ہفتوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، جس کے اثرات نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے باعث عالمی معیشت اور عام شہریوں کی زندگیوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ صورتحال بھارت کے لیے اقتصادی، قومی سلامتی اور انسانی بنیادوں پر غیر متوقع چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ بھارتی شہری مقیم ہیں اور ان کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر اعظم مودی نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستوں پر آمد و رفت میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں، جس سے عالمی تجارت اور سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارت کو خام تیل اور قدرتی گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ بھی ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ بھارت کے پاس ترپن لاکھ میٹرک ٹن کا اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخیرہ موجود ہے جو ہنگامی حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ صورتحال کا اثر کھاد کی سپلائی پر بھی پڑ سکتا ہے، تاہم ملک میں کھاد کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ بھارت کی پارلیمنٹ سے امن اور مذاکرات کا ایک متحد پیغام پوری دنیا تک پہنچنا چاہیے۔ انہوں نے اس بحران کے حل کے لیے بات چیت اور سفارتی کوششوں کو ہی واحد راستہ قرار دیا۔ ادھر حکومت نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر جمعرات کو ایک کل جماعتی اجلاس بھی طلب کیا تھا جس کی صدارت وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کی۔ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کو موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی کمی نہیں ہے۔ حکومت نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز سے چار بھارتی جہاز بحفاظت گزر چکے ہیں اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


