نئی دہلی: پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل خواتین کے حقوق سے جڑا ہوا ہے اور اسے سیاست کے بجائے قومی مفاد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے اپوزیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو جماعتیں پہلے اس بل کی حمایت کر رہی تھیں، آج وہی اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ریزرویشن دینا کسی قسم کا احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہے اور اس میں ہوئی تاخیر دراصل ایک اجتماعی کوتاہی رہی ہے، جس کا ازالہ اب کیا جانا ضروری ہے۔
وزیر اعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ بل کسی کے ساتھ بھی ناانصافی نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی ریاست کے حقوق کو متاثر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ”میں یہ گارنٹی دیتا ہوں کہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا“۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ تناسب میں بھی کسی قسم کی بڑی تبدیلی نہیں ہوگی اور تمام فریقوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن اس بل کی مخالفت کرتی ہے تو اس سے انہیں سیاسی فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر سب مل کر اس کی حمایت کریں گے تو اس کا کریڈٹ وہ تمام جماعتوں کو دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی کریڈٹ کی خواہش نہیں ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں خواتین کو ان کا جائز حق ملے۔
وزیر اعظم مودی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جیسے ہی یہ بل پارلیمنٹ سے منظور ہوگا، وہ سبھی جماعتوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے اشتہار دینے کو تیار ہیں اور اگر اپوزیشن چاہے تو ان کی تصاویر بھی سرکاری خرچ پر شائع کروائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”کریڈٹ آپ لے لیجیے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں، بس اس بل کو پاس ہونے دیجئے“۔ انہوں نے خاتون ریزرویشن کے معاملے پر گزشتہ تین دہائیوں سے جاری تاخیر کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اب مزید بہانے بازی کی گنجائش نہیں ہے۔ ان کے مطابق 2023 میں نئے پارلیمانی ایوان میں ”ناری شکتی وندن ادھینیم“ کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں خوشی کا ماحول پیدا ہوا تھا اور اسے کسی سیاسی رنگ میں نہیں ڈھالا گیا تھا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ اس بل کو مزید کتنے عرصے تک روکے رکھا جائے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2023 میں جب اس پر بحث ہو رہی تھی تو سبھی جماعتیں جلدی کی بات کر رہی تھیں، لیکن 2024 تک اس کا نفاذ ممکن نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ اگر 2029 تک بھی اس پر عمل نہیں ہوا تو حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم مودی نے ایک بار پھر اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ اس بل کو سیاست کے ترازو میں نہ تولیں بلکہ اسے ایک تاریخی موقع کے طور پر دیکھیں، جس کے ذریعے خواتین کو ان کا آئینی حق دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ اس اہم قانون سازی میں مزید تاخیر نہ کی جائے اور تمام جماعتیں متحد ہو کر اسے جلد از جلد منظور کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


