Amit Shah On Womens Quota Delimitation Bill: لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن پر ہنگامہ، وزیر داخلہ امت شاہ کا اپوزیشن پر حملہ، کانگریس کو او بی سی مخالف قرار دیا
لوک سبھا کے اجلاس میں خواتین ریزرویشن بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن، خصوصاً کانگریس اور انڈیا اتحاد کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن مختلف بہانوں کے ذریعے خواتین ریزرویشن کی مخالفت کر رہی ہے اور درحقیقت وہ اس قانون کے نفاذ کے بجائے اس کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔
Parliament Special Session 2026: خواتین ریزرویشن سے متعلق تینوں بل لوک سبھا سے نامنظور، حکومت کو نہیں حاصل ہوسکی اکثریت
لوک سبھا میں ووٹنگ کے بعد مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے اعلان کیا کہ اب دیگر دو بلوں پر ایوان میں آگے بحث نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا اسپیکرنے ایوان کی کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کرنے کا اعلان کردیا۔
Amit Shah-Akhilesh Yadav Debate: لوک سبھا میں غازی آباد کے ووٹر ڈیٹا پر گرما گرم بحث، وزیر داخلہ امت شاہ اور اکھلیش یادو آمنے سامنے، حدبندی پر چھڑ گئی نئی بحث
لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں تین اہم بلوں پر ووٹنگ سے عین قبل ایوان کا ماحول اس وقت گرما گیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے درمیان غازی آباد کے ووٹر ڈیٹا کو لے کر شدید بحث چھڑ گئی۔ یہ بحث نہ صرف اعداد و شمار تک محدود رہی بلکہ ملک میں نئی حدبندی (ڈی لمیٹیشن) کی ضرورت پر بھی مرکوز ہو گئی۔
PM Modi Slams Opposition On Women Reservation Bill: خواتین ریزرویشن بل پر وزیر اعظم مودی کا بیان، کہا- حلقہ بندی میں کسی ریاست کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی
پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔
Women Empowerment: ’’خواتین کو بااختیار بنانے کی سمت تاریخی قدم‘‘ وزیراعظم نریندر مودی کا خصوصی پارلیمانی اجلاس سے قبل اعلان
واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا یہ خصوصی اجلاس 16 سے 18 اپریل تک جاری رہے گا، جس میں خواتین ریزرویشن، حلقہ بندی اور دیگر اہم آئینی و سیاسی امور پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ اس اجلاس کو ملک کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں خواتین کی شمولیت اور نمائندگی کے حوالے سے بڑے فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔





