Bharat Express DD Free Dish

PM Modi likely to address media tomorrow: وزیراعظم مودی مانسون اجلاس سے قبل کل میڈیا سے کرسکتے ہیں خطاب، 20 جولائی سے 13 اگست تک جاری رہے گا پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس

حکومت آئندہ مانسون اجلاس میں ’فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026‘ پیش کر سکتی ہے۔ اس بل کے تحت کسی تنظیم کا ایف سی آر اے سرٹیفکیٹ ختم ہونے، تجدید نہ ہونے یا حکومت کی جانب سے تجدید سے انکار کی صورت میں منسوخ ہو جائے گا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت غیر ملکی عطیات اور ان سے حاصل ہونے والے اثاثوں کے عارضی اور مستقل طور پر سرکاری تحویل میں لینے، نگرانی، انتظام اور تصفیے کے لیے ایک مخصوص اتھارٹی قائم کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی پیر کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے آغاز سے قبل صبح 10:15 بجے پارلیمنٹ ہاؤس کے ہنس دوار پر میڈیا سے خطاب کر سکتے ہیں۔ مانسون اجلاس پیر، 20 جولائی سے شروع ہو کر 13 اگست تک جاری رہے گا۔ مانسون اجلاس کے آغاز سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کے میڈیا سے خطاب کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کا یہ اجلاس 20 جولائی سے 13 اگست تک جاری رہے گا۔ یوم آزادی کی تقریبات کے پیش نظر ایوانوں کے کام میں وقفہ بھی متوقع ہے، جس کے بعد ضرورت پڑنے پر اجلاس دوبارہ منعقد کیا جا سکتا ہے۔

ایف سی آر اے ترمیمی بل پیش کیے جانے کا امکان

لوک سبھا کے سکریٹری جنرل کی جانب سے جاری بلیٹن کے مطابق، حکومت آئندہ مانسون اجلاس میں ’فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026‘ پیش کر سکتی ہے۔ اس بل کے تحت کسی تنظیم کا ایف سی آر اے سرٹیفکیٹ ختم ہونے، تجدید نہ ہونے یا حکومت کی جانب سے تجدید سے انکار کی صورت میں منسوخ ہو جائے گا۔ مجوزہ ترمیم کے تحت غیر ملکی عطیات اور ان سے حاصل ہونے والے اثاثوں کے عارضی اور مستقل طور پر سرکاری تحویل میں لینے، نگرانی، انتظام اور تصفیے کے لیے ایک مخصوص اتھارٹی قائم کرنے کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔ کیرالہ اسمبلی انتخابات سے قبل یہ بل ایک اہم سیاسی تنازع کا موضوع بن گیا ہے، کیونکہ ریاست میں عیسائی آبادی کے ساتھ ساتھ ایف سی آر اے کے تحت غیر ملکی فنڈ حاصل کرنے والی متعدد این جی اوز اور تنظیمیں بھی موجود ہیں۔

’وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل‘

حکومت سابقہ ’ہائر ایجوکیشن کمیشن آف انڈیا (HECI) بل‘ کی جگہ ’وکست بھارت شکشا ادھشٹھان بل، 2025‘ پیش کرنے کی تیاری میں ہے۔ اس بل کا مقصد یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC)، آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (AICTE) اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (NCTE) کی جگہ ایک نیا اعلیٰ تعلیمی ریگولیٹری نظام قائم کرنا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت انسٹی ٹیوٹس آف نیشنل امپورٹنس (INIs) کو بھی پہلی مرتبہ ریگولیٹری فریم ورک کے دائرے میں لایا جائے گا۔ فی الحال یہ ادارے بڑی حد تک اس طرح کی نگرانی سے باہر ہیں۔

بل کی شق پر اپوزیشن کا اعتراض

مجوزہ قانون کی شق 15(3)(g) کو لے کر بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ اس شق کے مطابق مجوزہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن مرکزی حکومت کی جانب سے جاری پالیسی ہدایات کا پابند ہوگا اور اختلاف کی صورت میں حکومت کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ اس شق پر تنقید کے باوجود وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے کہ یہ انتظام موجودہ قانونی فریم ورک میں کسی بنیادی تبدیلی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ یہ بل ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب وزیر تعلیم کو نیٹ-یوجی پیپر لیک معاملے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ حکومت نے اجلاس کے دوران ’انکم ٹیکس (ترمیمی) بل، 2026‘ اور ’مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ (ترمیمی) بل، 2026‘ کو بھی اہم اقتصادی قانون سازی کے طور پر فہرست میں شامل کیا ہے۔ دوسری جانب کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں ایودھیا رام مندر چندہ مبینہ غبن معاملہ، نیٹ-یوجی اور دیگر امتحانی پرچوں کے لیک، ای20 ایندھن اور ہندوستان کی خارجہ پالیسی سمیت متعدد مسائل پارلیمنٹ میں اٹھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read