راجیہ سبھا میں جمعہ کی صبح وقف بل منظور ہونے سے چند گھنٹے قبل مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات کو الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) ’’ملک کو تقسیم کرنے‘‘ کے لیے یہ بل لائی ہے۔ ممتا بنرجی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جب ’’موجودہ حکومت کے بعد نئی حکومت قائم ہوگی‘‘ تو وہ اس بل کو ختم کر دے گی۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا ’’یہ بل زبردستی منظور کیا گیا ہے۔ لیکن ایک دن یہ جائیں گے اور نئی حکومت آئے گی۔ تب یاد رکھیے کہ ایک اور ترمیم کی جائے گی اور اسے لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور کیا جائے گا۔
#WATCH | Howrah: On #WaqfAmendmentBill, West Bengal CM Mamata Banerjee says, “…This was done intentionally, politically, to divide the country…But one day, they will go away, and the other Government will come. At that time, you must remember there will be another amendment,… pic.twitter.com/geF9WvtWKm
— ANI (@ANI) April 3, 2025
اس سے پہلے بدھ کے روز ممتانے بی جے پی کو اس کے ’’تقسیم کے ایجنڈے‘‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا ’’میرے ممبران پارلیمنٹ وقف کے مسئلہ پر بات کرنے کے لئے دہلی میں ہیں۔ ‘جملہ پارٹی’ کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے -ملک کو تقسیم کرنا۔ وہ ‘تقسیم کرو اور حکومت کرو’ میں یقین رکھتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ وقف (ترمیمی) بل کو 12 گھنٹے کی میراتھن بحث کے بعد جمعرات کی صبح لوک سبھا نے منظور کر لیا تھا۔ بعد میں راجیہ سبھا میں بھی اسے منظوری دے دی گئی۔ حکمراں این ڈی اے نے اس بل کا سختی سے دفاع کرتے ہوئے اسے اقلیتوں کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتوں نے اس کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’مسلم مخالف‘‘ قرار دیا ہے۔
اس دوران کانگریس نے وقف ترمیمی بل کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔ کانگریس کے علاوہ ڈی ایم کے اور دیگر سیاسی و ملی تنظیموں نے بھی سپریم کورٹ کا رخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثنا ملک کے مختلف حصوں میں حکومت نے اس کے خلاف ممکنہ مظاہروں کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کر رکھے ہیں۔ دہلی کے حساس علاقوں مثلاً شاہین باغ اور جامعہ نگر میں بھاری تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



