Bharat Express DD Free Dish

Mamta Banerjee

ممتا بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’’دہلی پولیس کیا کر رہی ہے؟ ابھجیت دیپکے کو محض اس لیے حراست میں لے لیا گیا، کیونکہ وہ ہندوستانی پرچم ترنگا تھامے ہوئے تھے۔ ذرا سوچیے! آزاد ہندوستان میں ہمارے نوجوانوں کو اپنے جمہوری حقوق کا پرامن طریقے سے استعمال کرنے پر حراست میں لیا جا رہا ہے۔ یہ غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے کم نہیں ہے۔

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی حمایت کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد کانگریس امیدوار ملن پردھان کو ایک پرانے مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان کے خلاف ایک پرانے قتل کے معاملے میں وارنٹ بھی جاری ہوا تھا۔

شمالی 24 پرگنہ کے امدنگا سے رکن اسمبلی قاسم صدیقی نے اپوزیشن خیمے سے علیحدگی اختیار کرکے ایک بار پھر سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خیمے میں واپس آنے کا اعلان کیا ہے۔ کچھ ماہ قبل انہوں نے اپوزیشن لیڈر رتبرتا بنرجی کے گروپ کا ساتھ دیا تھا۔ قاسم صدیقی نے کہا کہ انہیں گمراہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ دیدی کے ساتھ تھے اور آئندہ بھی ان کے ساتھ رہیں گے۔

ریجو دتہ نے کہا کہ ٹی ایم سی کے 2 اراکین اسمبلی، رتبرتا بنرجی اورسندیپن ساہا نے اسپیکر کو خط لکھ کردعویٰ کیا کہ ان کے دستخط جعلی ہیں۔ اس کے بعد ترنمول کانگریس نے ان دونوں اراکین اسمبلی کو پارٹی سے معطل کردیا۔

عدالت عظمیٰ نے اس معاملے میں کوئی نیا حکم جاری کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ محض الیکشن کمیشن آف انڈیاکے وکیل کی جانب سے دیے گئے بیان کو ریکارڈ پر لے رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ 13 اپریل کے سرکلر پر عمل درآمد کیا جائے گا،

ترنمول کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں بنگالی بولنے والے مہاجر مزدوروں پر مظالم ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر نتن نابن نے مہوا موئترہ کے تبصرے کو حکومت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں لیکن وہ عوام کی دعاؤں سے محفوظ ہیں۔

بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ نے ممتا بنرجی پر ’’غیرقانونی بنگلہ دیشی دراندازوں‘‘ کا دفاع کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ووٹ بینک کی سیاست کے لیے قومی سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ لوگوں کو اپنی شناخت پر فخر کرنا چاہیے اور ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں بنگال کے کلیدی کردار کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

دریں اثنا عمر عبداللہ نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ریاست کے تمام منتخب نمائندوں کو بند کر دینا جمہوریت کی توہین ہے۔