نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی مبینہ طور پر اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز شیئر کرنے کے معاملے میں لوک سبھا سکریٹریٹ نے کانگریس کے 9 لیڈروں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ان لیڈروں پر ایوان کے استحقاق کی خلاف ورزی اور توہینِ ایوان (کنٹیمپٹ آف ہاؤس) کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ نوٹس میں تین دن کے اندر تحریری جواب طلب کیا گیا ہے۔ نوٹس پانے والوں میں کانگریس کے سرکردہ لیڈران جئے رام رمیش، پون کھیڑا، سپریا شرینیت اور سنجیو سنگھ سمیت دیگر شامل ہیں۔ لوک سبھا سکریٹریٹ کے مطابق ان لیڈروں نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز شیئر کیں جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تھیں اور جن میں اعلیٰ آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کو متنازع انداز میں پیش کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق ستمبر 2025 میں بہار کانگریس کے سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے 36 سیکنڈ کی ایک ویڈیو پوسٹ کی گئی تھی۔ اس ویڈیو میں وزیر اعظم مودی کی مرحوم والدہ کو ان کی سیاسی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جسے بعد ازاں اے آئی سے تیار کردہ مواد قرار دیا گیا۔ اسی طرح گزشتہ سال دسمبر میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی ایک مبینہ ڈیپ فیک ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی، جس میں انہیں ’آرتھک سہایتا سواولمبن‘ اسکیم کے تحت غریب خاندانوں کو بارہ ہزار روپے دینے کا اعلان کرتے دکھایا گیا۔
سرکاری جانچ ایجنسی پی آئی بی فیکٹ چیک اور دیگر اداروں کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ ویڈیوز مکمل طور پر جعلی تھیں۔ اصل ویڈیو یکم دسمبر 2025 کی تھی، جس میں اسپیکر اوم برلا مرحوم اراکین پارلیمنٹ کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے، تاہم اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے آواز اور آڈیو میں تبدیلی کر کے اسے گمراہ کن انداز دیا گیا۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دہلی پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ مزید برآں پٹنہ ہائی کورٹ نے کانگریس کو ہدایت دی تھی کہ متنازع ویڈیو کو فوری طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹایا جائے۔ سیاسی حلقوں میں اس نوٹس کے بعد ہلچل مچ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں تسلی بخش جواب پیش نہ کیا گیا تو متعلقہ لیڈروں کے خلاف مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ یہ معاملہ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے ممکنہ غلط استعمال پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

