ممبئی: مہاراشٹر میں طویل انتظار کے بعد بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ جمعرات کو مکمل ہو گیا۔ ریاست کی سب سے بڑی بلدیہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) سمیت مجموعی طور پر 29 میونسپل کارپوریشنوں میں ووٹنگ کرائی گئی، جس میں رائے دہندگان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان انتخابات کو ریاست کی سیاست کے لیے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے نتائج آنے والے دنوں میں سیاسی توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ریاست میں ممبئی، چھترپتی سمبھاجی نگر، نوی ممبئی، وسئی-ویرار، کلیان-ڈومبیولی، کولہاپور، ناگپور، سولاپور، امراوتی، اکولا، ناسک، پمپری-چنچوڑ، پونے، الہاس نگر، تھانے، چندرپور، پربھنی، میرا-بھائندر، ناندیڑ-واگھالا، پنویل، بھیونڈی-نظام پور، لاتور، مالیگاؤں، سانگلی-میراج-کوپواڑ، جلگاؤں، اہلیانگر، دھولے، جالنہ اور اِچلکرنجی میں ووٹنگ عمل میں آئی۔ تقریباً چار برس بعد ہونے والے ان انتخابات میں عوام نے اپنے بلدیاتی نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے۔
مہاراشٹر کی ان 29 میونسپل کارپوریشنوں میں مجموعی طور پر 2,869 نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے۔ اس انتخابی عمل میں تقریباً 3 کروڑ 48 لاکھ ووٹرز شامل تھے، جن میں 1 کروڑ 81 لاکھ مرد، 1 کروڑ 66 لاکھ خواتین اور 4,596 دیگر ووٹرز شامل ہیں۔ ریاست بھر میں 15,908 امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند ہو گئی۔ ممبئی میں دوپہر ساڑھے تین بجے تک ووٹنگ کا تناسب 41.08 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دوپہر ڈیڑھ بجے تک یہ شرح تقریباً 30 فیصد تھی، جو بعد میں تیزی سے بڑھی۔
سیاسی اعتبار سے یہ انتخابات نہایت اہم مانے جا رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزرائے اعلیٰ ایکناتھ شندے اور اجیت پوار کی سیاسی ساکھ داؤ پر لگی ہے، وہیں دوسری طرف ٹھاکرے برادران ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کی جماعتوں کے ممکنہ اتحاد پر سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں، جو بی ایم سی کی اقتدار میں واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے ممبئی میں تقریباً 28 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے، جبکہ 227 نشستوں پر منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے 64,375 ملازمین کی ڈیوٹی لگائی گئی۔ اب تمام نظریں بلدیاتی انتخابات کے نتائج پر مرکوز ہیں، جو جمعہ 16 جنوری کو جاری کیے جائیں گے۔ ان نتائج سے یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا مہاراشٹر کی شہری سیاست میں کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے یا نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

