Bharat Express DD Free Dish

Malegaon Mayor Nasreen Bano Sheikh: ’اسلام پارٹی‘ کی نسرین بانو شیخ مالیگاؤں کی میئر منتخب، کانگریس۔ایس پی کی حمایت، اویسی کی پارٹی نے نہیں دیا ساتھ

مہاراشٹر کے مالیگاؤں شہر میں میونسپل کارپوریشن کے میئر انتخاب نے ریاستی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مقامی سیاسی جماعت اسلام پارٹی کی امیدوار نسرین بانو شیخ میئر منتخب ہو گئی ہیں۔ انہوں نے شیو سینا کی امیدوار لتا گھوڑکے کو 25 ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔

مالیگاؤں: مہاراشٹر کے مالیگاؤں شہر میں میونسپل کارپوریشن کے میئر انتخاب نے ریاستی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مقامی سیاسی جماعت اسلام پارٹی کی امیدوار نسرین بانو شیخ میئر منتخب ہو گئی ہیں۔ انہوں نے شیو سینا کی امیدوار لتا گھوڑکے کو 25 ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔ نسرین بانو کو سماج وادی پارٹی اور کانگریس کی حمایت حاصل رہی، جبکہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس انتخاب میں خود کو غیر جانب دار رکھا۔ مہاراشٹر میں حال ہی میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج سامنے آئے تھے، جن کے بعد میئر کے عہدے کے لیے لاٹری سسٹم کے ذریعے یہ طے کیا گیا کہ اس بار مرد یا خاتون میں سے کون میئر بنے گا۔ اس عمل کے تحت مالیگاؤں میں خاتون کے لیے میئر کی نشست مختص ہوئی۔ اسی کے بعد میئر انتخاب کا انعقاد کیا گیا، جس میں اسلام پارٹی کی امیدوار نسرین بانو شیخ کامیاب رہیں۔

انتخابی نتائج کے مطابق نسرین بانو شیخ کے حق میں مجموعی طور پر 43 کارپوریٹروں نے ووٹ دیا، جبکہ شیو سینا کی امیدوار لتا گھوڑکے کو صرف 18 ووٹ مل سکے۔ نسرین بانو کو اسلام پارٹی کے 35، سماج وادی پارٹی کے 5 اور کانگریس کے 3 کارپوریٹروں کی حمایت حاصل ہوئی۔ اس واضح اکثریت کے ساتھ انہوں نے میئر کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔ دوسری جانب شیو سینا کے تمام 18 کارپوریٹروں نے اپنی امیدوار لتا گھوڑکے کے حق میں ووٹنگ کی، تاہم یہ تعداد جیت کے لیے ناکافی ثابت ہوئی۔ اس انتخاب میں اے آئی ایم آئی ایم اور بی جے پی کے کارپوریٹروں نے کسی بھی امیدوار کے حق میں ووٹ نہیں دیا اور خود کو غیر جانب دار رکھا۔ میئر کے عہدے کے لیے مجموعی طور پر تین امیدوار میدان میں تھے، جن کی جانب سے پانچ نامزدگیاں داخل کی گئی تھیں۔

نسرین بانو کے منتخب ہونے کے بعد کارپوریشن کے اجلاس ہال میں سیکولر فرنٹ کے کارپوریٹروں نے جشن منایا۔ واضح رہے کہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے اسلام پارٹی اور سماج وادی پارٹی نے پہلے ہی ’’سیکولر فنڈ‘‘ کے نام سے اتحاد قائم کیا تھا، جسے کانگریس کی تائید بھی حاصل رہی۔ اگر مجموعی انتخابی صورتحال پر نظر ڈالی جائے تو مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں کل 84 نشستیں ہیں، تاہم جنوری میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ اسلام پارٹی 35 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم کو 21، ایکناتھ شندے دھڑے کی شیو سینا کو 18، سماج وادی پارٹی کو 5، کانگریس کو 3 اور بی جے پی کو 2 نشستیں ملی تھیں۔

میئر انتخاب کے بعد مالیگاؤں کی سیاست اس لیے بھی سرخیوں میں رہی کہ ابتدائی طور پر شیو سینا کو اقتدار سے روکنے کے لیے بی جے پی اور کانگریس کے ایک ساتھ آنے کی خبریں سامنے آئیں، جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ تاہم بعد میں تنازع بڑھنے پر اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا اور پارٹی قیادت نے مبینہ طور پر اس اقدام میں شامل کارکنوں کے خلاف کارروائی بھی کی۔ ان تمام سیاسی اتار چڑھاؤ کے درمیان نسرین بانو شیخ کا میئر منتخب ہونا مالیگاؤں کی سیاست میں ایک اہم اور معنی خیز پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read