Bharat Express DD Free Dish

Notice to Rahul Gandhi: لوک سبھا سکریٹریٹ نے وزیرداخلہ امت شاہ کے خلاف ’غیر پارلیمانی‘ تبصروں پر اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے مانگا جواب

سنجے جیسوال نے 29 جولائی کو دیے گئے اپنے علیحدہ خط میں راہل گاندھی کی جانب سے مبینہ طور پر غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال کا نوٹس لینے اور مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لوک سبھا سکریٹریٹ نے راہل گاندھی کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا ہے کہ وہ 28 اگست تک اس معاملے میں اپنا جواب یا تبصرہ پیش کریں تاکہ اسے لوک سبھا اسپیکر کے غور کے لیے پیش کیا جاسکے۔

نئی دہلی: لوک سبھا سکریٹریٹ نے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف مبینہ طور پر ’غیر پارلیمانی‘ اور قابل اعتراض تبصروں کے معاملے میں جواب طلب کیا ہے۔ راہل گاندھی کو 28 اگست تک مراعات شکنی اور ایوان کی توہین سے متعلق دو نوٹس پر اپنا جواب پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ 14 اگست کو جاری خط میں جوائنٹ سکریٹری ایچ رام پرکاش نے کہا کہ یہ نوٹس بی جے پی ارکان پارلیمنٹ انوراگ سنگھ ٹھاکر اور سنجے جیسوال کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں۔ انوراگ سنگھ ٹھاکر نے 30 جولائی کو دیے گئے اپنے نوٹس میں الزام لگایا کہ راہل گاندھی نے پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف اَن فیئر مینز) ترمیمی بل، 2026 پر بحث کے دوران امت شاہ کے خلاف ’غیر پارلیمانی اور توہین آمیز زبان‘ استعمال کی اور سنگین الزامات عائد کیے۔

پارلیمانی ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام

سنجے جیسوال نے 29 جولائی کو دیے گئے اپنے علیحدہ خط میں راہل گاندھی کی جانب سے مبینہ طور پر غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال کا نوٹس لینے اور مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ لوک سبھا سکریٹریٹ نے راہل گاندھی کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا ہے کہ وہ 28 اگست تک اس معاملے میں اپنا جواب یا تبصرہ پیش کریں تاکہ اسے لوک سبھا اسپیکر کے غور کے لیے پیش کیا جاسکے۔ سنجے جیسوال نے اپنے نوٹس میں کہا کہ راہل گاندھی نے مذکورہ بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ کے خلاف ایسے الفاظ اور تبصرے کیے جو قابل اعتراض، توہین آمیز اور پارلیمانی گفتگو کے طے شدہ اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں پر سخت تنقید پارلیمانی جمہوریت کا جائز اور ضروری حصہ ہے، لیکن کسی فرد پر ذاتی حملے، توہین آمیز یا ہتک آمیز زبان اور دیگر غیر پارلیمانی الفاظ کو ایوان کی کارروائی میں اجازت نہیں دی جاسکتی۔

غیر پارلیمانی الفاظ حذف کرنے کی درخواست

جیسوال نے قواعد 352 اور 353 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ قواعد ہتک آمیز یا الزام تراشی پر مبنی الزامات اور بحث کے دوران کسی شخص کے طرز عمل سے متعلق حوالوں سے متعلق ہیں۔ انہوں نے قواعد 380، 373، 374 اور 374 اے کا بھی حوالہ دیا، جن کے تحت اسپیکر کو غیر پارلیمانی الفاظ کو کارروائی سے حذف کرنے اور ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ جیسوال نے مطالبہ کیا کہ راہل گاندھی کے ایسے تمام الفاظ جو غیر پارلیمانی، توہین آمیز یا ایوان کے قواعد و روایات کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہوں، انہیں قاعدہ 380 کے تحت کارروائی سے حذف کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے اسپیکر سے راہل گاندھی کو ایوان کے وقار، ضبط اور شائستگی کے مطلوبہ معیار کو برقرار رکھنے کی تنبیہ کرنے اور ضرورت پڑنے پر قواعد 373، 374 یا 374 اے کے تحت مزید کارروائی پر غور کرنے کی درخواست کی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read